30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہرگز تقدیر سے رُوگرداں نہیں۔
حدیث ۲۶:حدیث میں حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی گئی،دوا تقدیر سے کیا نافع ہوگی؟ فرمایا:
|
الدّوامن القدر،ینفع من یشاء بماشاء رواہ ابن السنی[1]۔فی الطب والدیلمی فی مسند الفردوس عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما وصدرہ عنہ عندابی نعیم والطبرانی فی المعجم الکبیر۔ |
دوا خود بھی تقدیر سے ہے،اﷲ تعالٰی جسے چاہے جس دوا سے چاہے نفع پہنچادیتا ہے۔(اس کو روایت کیا ہے ابن سنی نے طب میں اور دیلمی نے مسند فردوس میں اور اس کی ابتداء ابن عباس سے ابو نعیم کے نزدیك ہے اور طبرانی نے معجم کبیر میں اس کو روایت کیا۔ت) |
حدیث ۲۷:امیرالمومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ جب بقصدِ شام و ادی تبوك میں قریہ سرَغ تك پہنچے سردارانِ لشکر ابوعبیدہ بن الجراح وخالد بن الولید و عمر و بن العاص وغیرہم رضوان اﷲ تعالٰی علیہم انہیں ملے اور خبر دی کہ شام میں وبا ہے،امیر المومنین نے مہاجرین وانصار وغیرہم صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کو بُلا کر مشورہ لیا،اکثر کی رائے رجوع پر قرار پائی امیر المومنین نے بازگشت کی منادی فرمائی۔حضرت ابوعبیدہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے کہا:أفِرَارا من اﷲ کیا اﷲ تعالٰی کی تقدیر سے بھاگنا ؟ فرمایا:
|
لو غیرك قالہا یااباعبیدۃ،نعم،نفرمن قدر اﷲ الٰی قدر اﷲ ارایت لوکان لك ابل ھبطت وادیالہ عدوتان احدھما خصبۃ والاخرٰی جدبۃ الیس ان رعیت الخصبۃ رعیتہا بقدر اﷲ وان رعیت الجدبۃ رعیتہا بقدر اﷲ۔ |
کاش اے ابوعبیدہ ! یہ بات تمہارے سوا کسی اور نے کہی ہوتی (یعنی تمہارے علم و فضل سے بعید تھی)ہاں ہم اﷲ کی تقدیر سے اﷲ کی تقدیر ہی کی طرف بھاگتے ہیں،بھلا بتاؤ تو اگر تمہارے کچھ اونٹ ہوں انہیں لے کر کسی وادی میں اترو جس کے دو کنارے ہوں،ایك سرسبز،دوسرا خشک،تو کیا یہ بات نہیں ہے کہ اگر تم شاداب میں چراؤ گے تو خدا کی تقدیر سے اور خشك میں چراؤ گے تو خدا کی تقدیر سے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع