30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
رجالہ رجال الصحیح۔ |
رجال صحیح کے رجال ہیں۔ت) |
حدیث ۲۳:اسی لیے ترك کسب سے صاف ممانعت آئی ہے حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
|
لیس بخیرکم من ترك دنیاہ لِاخرتہ ولا اٰخرتہ لِدنیاہ حتی یصیب منھما جمیعًا فان الدنیا بلاغ الی الاٰخرۃ ولاتکونوا کلاّ علی الناس رواہ ابن عساکر۔[1] عن ابن مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
تمہارا بہتر وہ نہیں ہے جو اپنی دنیا آخرت کے لیے چھوڑ دے اور نہ وہ جو اپنی آخرت دنیا کے لیے ترك کرے،بہتر وہ ہے جو دونوں سے حصہ لے کہ دنیا آخرت کا وسیلہ ہے،اپنا بوجھ اوروں پر ڈال کر نہ بیٹھ رہو،(اس کو ابن عساکر نے انس بن مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت) |
انہیں احادیث سے ثابت ہوا کہ تلاش حلال و فکرِ معاش و تعاطِی اسباب ہر گز منافی توکل نہیں بلکہ عین مرضی الٰہی ہے کہ آدمی تدبیر کرے اور بھروسہ تقدیر پر رکھے۔
حدیث ۲۴ و ۲۵:اسی لیے جب ایك صحابی نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی اپنی اونٹنی یونہی چھوڑ دوں اور خدا پر بھروسہ رکھوں یا اُسے باندھوں اور خدا پر توکل کروں ؟ ارشاد فرمایا قَیِّد و تَوَکّل باندھ دے اور تکیہ خدا پر رکھ۔
برتوکل زانوے اشتر ببند
(اﷲ پربھروسہ کرتے ہوئے اونٹنی کے گھٹنے باندھ(ت)
|
اخرجہ البیہقی۔[2]فی الشعب بسند جیّد عن عمر و بن امیّۃ الضمری والترمذی فی الجامع عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنھما واللفظ عندہ اعقلھا وتوکل[3]۔ |
اس کی تخریج کی بیہقی نے شعب میں سند جید کے ساتھ عمرو بن امیہ ضمری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اور ترمذی نے جامع میں حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے،اس کے نزدیك لفظ یہ ہیں،اعقلھا و توکل۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع