30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
" فَرِیۡقٌ فِی الْجَنَّۃِ وَ فَرِیۡقٌ فِی السَّعِیۡرِ ﴿۷﴾"[1]۔ |
ایك گروہ جنت میں ہے اور ایك گروہ دوزخ میں۔(ت) |
پھر بھی اعمال فرض کیے کہ جس کے مقدر میں جو لکھا ہے اسے وہی راہ آسان،اور اسی کے اسباب مہیا ہوجائیں۔
قال تعالٰی(اﷲ تعالٰی نے فرمایا۔ت)
|
"l فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْیُسْرٰی ؕ﴿۷﴾"[2]۔ |
تو بہت جلد ہم اُسے آسانی مہیا کردیں گے۔(ت) |
وقال تعالٰی(اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا۔ت)
|
" فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْعُسْرٰی ﴿ؕ۱۰﴾"[3]۔ |
تو بہت جلد ہم اُسے دشواری مہیا کردیں گے۔(ت) |
حدیث ۲:اسی لیے جب حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:دوزخی،جنتی سب لکھے ہوئے ہیں،اور صحابہ نے عرض کی:یارسول اﷲ ! پھر ہم عمل کا ہے کوکریں،ہاتھ پاؤں چھوڑ بیٹھیں۔کہ جو سعید ہیں آپ ہی سعید ہوں گے اور جو شقی ہیں ناچار شقاوت پائیں گے۔فرمایا:نہیں بلکہ عمل کیے جاؤ کہ ہر ایك جس گھر کے لیے بنا ہے اُسی کا راستہ اُسے سہل کردیتے ہیں، سعید کو اعمالِ سعادت کا اور شقی کو افعالِ شقاوت کا۔پھر حضور نے یہی دو آیتیں تلاوت فرمائیں۔
|
اخرجہ الائمۃ احمد والبخاری و مسلم وغیرہم عن امیر المومنین علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ قال:کان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی جنازۃ فاخذشیئا فجعل ینکت بہ الارض فقال مامنکم من احد الا وقد کتب مقعدہ من النار ومقعدہ من الجنۃ قالو ا یارسول اﷲ ! افلانتکل علی کتابنا وندع |
امام احمد،بخاری اور مسلم وغیرہ نے امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ الکریم سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایك جنازہ میں شریك تھے،آپ نے کوئی چیز پکڑی اور زمین کو کریدنے لگے اور فرمایا تم میں ایساکوئی نہیں جس کا ایك ٹھکانہ دوزخ میں اور ایك ٹھکانہ جنت میں نہ لکھا جاچکا ہو۔صحابہ نے عرض کی:یارسول اﷲ! کیا ہم تحریر پر بھروسہ کرکے عمل کو چھوڑ نہ دیں۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع