30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہاتھ پاؤں توڑ کر بیٹھنا جہل و حماقت،یہاں تك کہ اگر تقدیر پر بھروسہ کا جھوٹا نام کرکے خوردو نوش کا عہد کرے اور بھوك پیاس سے مرجائے،بے شك حرام موت مرے اور اﷲ تعالٰی کا گنہگار ٹھہرے۔مرگ بھی تو تقدیر سے ہے،پھر اﷲ تعالٰی نے کیوں فرمایا۔
|
" وَلَا تُلْقُوۡا بِاَیۡدِیۡکُمْ اِلَی التَّہۡلُکَۃِۚۖۛ""۔[1] |
اپنے ہاتھوں اپنی جان ہلاکت میں نہ ڈالو۔ |
گرچہ مردن مقدر است ولے تو مرو در دہان اژدہا [2]
(اگرچہ موت مقدر ہے لیکن از خود اژدہوں اور سانپوں کے منہ میں نہ جا۔ت)
ہم نے مانا کہ ولید اپنے دعوے پر ایسا مضبوط ہو کہ یك لخت ترك اسباب کرکے پیمانِ واثق(پکا عہد)کرلے کہ اصلًا دست و پانہ ہلائے نہ اشارۃً نہ کنایۃً کسی تدبیر کے پاس جائے گا خدا کے حکم سے پیٹ بھرے تو بہتر ورنہ مرنا قبول،تاہم اﷲ تعالٰی سے سوال کرے گا یہ کیا تدبیرنہیں کہ دعا خود موثر حقیقی کب ہے ؟ صرف حصول مراد کا ایك سبب ہے،اور تدبیر کا ہے کانام ہے۔رب جل جلالہ فرماتا ہے:
|
(۵)"وَ قَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوۡنِیۡۤ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ؕ"[3]۔ |
تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا۔ |
وہ قادر تھے کہ بے دعا مراد بخشے،پھر اس تدبیر کی طرف کیوں ہدایت فرمائی؟ اور وہ بھی اس تاکید کے ساتھ کہ حدیث میں حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا۔
حدیث ۱:
|
مَنْ لَّمْ یَدْعُ اﷲ غَضِبَ علیہ[4]۔ |
جو اﷲ سے دعا نہ کرے گا اﷲ تعالٰی اس پر غضب |
[1] القرآن الکریم ۲/ ۱۹۵
[3] القرآن الکریم ۴۰/ ۶۰
[4] المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الدعاء باب فی فضل الدعا حدیث ۹۲۱۸ ادارۃ القرآن کراچی ۱۰/ ۲۰۰،مسند احمد بن حنبل عن ابی ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۴۴۳،جامع الترمذی ابواب الدعوات باب منہ امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۷۳،سنن ابن ماجہ ابواب الدعاء باب فضل الدعاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۲۸۰،المستدرک للحاکم کتاب الدعاء باب من لم یدع اﷲ الخ دارالفکر بیروت ۱/ ۴۹۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع