30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
" بِظَلّٰمٍ لِّلْعَبِیۡدِ ﴿۲۹﴾٪"[1]۔ |
بندوں پر ظلم کروں۔ |
یہ آیتیں صاف ارشاد فرمارہی ہیں کہ بندہ خود ہی اپنی جان پرظلم کرتا ہے وہ اپنی ہی کرنی بھرتا ہے وہ ایك حرام کا اختیار وارادہ ضرور رکھتا ہے،اب دونوں قسم کی سب آیتیں قطعا مسلمان کا ایمان ہیں۔بے شك بے شبہ بندہ کے افعال کاخالق بھی خدا ہی ہے۔بے شك بندہ بے ارادہ الہیہ کچھ نہیں کرسکتا،اور بے شك بندہ اپنی جان پر ظلم کرتا ہے،بے شك وہ اپنی ہی بداعمالیوں کے سبب مستحق سزا ہے۔
یہ دونوں باتیں جمع نہیں ہوسکتیں مگر یونہی کہ عقیدہ اہل سنت وجماعت پرایمان لایاجائے،وہ کیا بات ہے؟ وہ جو اہل سنت کے سردار ومولی امیر المؤمنین علی مرتضی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم نے انہیں تعلیم فرمایا۔
ابو نعیم حلیۃ الاولیاء میں بطریق امام شافعی عن یحیی بن سلیم امام جعفر صادق سے،وہ حضرت امام باقر،وہ حضرت عبداﷲ بن جعفر طیار،وہ امیر المؤمنین مولی علی رضی اﷲ تعالٰی عنھم سے راوی:
|
انہ خطب الناس یوما(فذکر خطبتہ ثم قال)فقام الیہ رجل ممن کان شھد معہ الجمل،فقال یاامیر المؤمنین اخبرنا عن القدر،فقال بحر عمیق فلا تلجہ،قال یا امیر المؤمنین اخبرنا عن القدر،قال سر اﷲ فلا تتکلفہ،قال یا امیر المؤمنین اخبرنا عن القدر،قال اما اذا ابیت فانہ امر بین امرین لا جبر و لا تفویض،قال یا امیر المؤمنین ان فلانا یقول بالاستطاعۃ،وھو حاضرک،فقال علی بہ فاقاموہ،فلما راٰہ سل سیفہ قدر اربع اصابع،فقال الاستطاعۃ تملکھا |
یعنی ایك دن امیر المؤمنین خطبہ فرمارہے تھے،ایك شخص نے کہ واقعہ جمل میں امیر المؤمنین کے ساتھ تھے کھڑے ہوکر عرض کی:یا امیر المؤمنین ! ہمیں مسئلہ تقدیر سے خبر دیجئے، فرمایا:گہرا دریا ہے اس میں قدم نہ رکھ،عرض کی:یا امیر المؤمنین ! ہمیں خبر دیجئے،فرمایا:اﷲ کا راز ہے زبردستی اس کابوجھ نہ اٹھا۔عرض کی:یا امیرا لمؤمنین ہمیں خبر دیجئے فرمایا:اگر نہیں مانتا تو ایك امر ہے دو امروں کے درمیان،نہ آدمی مجبور محض ہے نہ اختیار اسے سپرد ہے۔عرض کی:یا امیر المؤمنین فلاں شخص کہتا ہے کہ آدمی اپنی قدرت سےکام کرتا ہے،اور وہ حضور میں حاضر ہے،مولی علی فرمایا:میرے سامنے لاؤ،لوگوں نے اسے کھڑا کیا۔جب امیر المؤمنین نے اسے دیکھا تیغ مبارك چار انگل کے قدر نیام سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع