30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اﷲ جو چاہے حکم فرماتا ہے۔اس کی شان ہے " لَایُسْـَٔلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَہُمْ یُسْـَٔلُوۡنَ ﴿۲۳﴾"[1] وہ جو کچھ کرے اس سے کوئی پوچھنے والا نہیں اور سب سے سوال ہوگا زید نے روپے کی ہزار اینٹیں خریدیں،پانچسو۵۰۰ مسجد مں لگائیں،پانسو۵۰۰ پاخانہ کی زمین اور قد مچوں میں کیا اس سے کوئی الجھ سکتا ہے کہ ایك ہاتھ کی بنائی ہوئی،ایك مٹی سے بنی ہوئی،ایك آوے سے پکی ہوئی ایك روپے کی مول لی ہوئی ہزار اینٹیں تھیں،ان پانسو میں کیا خوبی تھی کہ مسجد میں صرف کیں،اور ان میں کیا عیب تھا کہ جائے نجاست میں رکھیں اگر احمق اس سے پوچھے بھی تو وہ یہی کہے گا کہ میری ملك تھیں میں نے جو چاہا کیا۔
جب مجازی جھوٹی ملك کا یہ حال تو حقیقی سچی ملك کا کیا پوچھنا۔ہمارا اور ہماری جان ومال اور تمام جھان کا وہ ایك اکیلا پاك نرالا سچا مالك ہے۔اس کے کام،اس کے احکام میں کسی کو مجال دم زدن کیا معنی ! کیا کوئی اسکا ہمسر یا اس پر افسر ہے جو اس سے کیوں اور کیا کہے۔مالك علی الاطلاق ہے،بے اشتراك ہے،جو چاہا کیا اور جو چاہے کرے گا،ذلیل فقیر بے حیثیت حقیر اگر بادشاہ جبار سے الجھے تو اسکا سر کھجایا ہے،شامت نے گھیرا ہے اس ہر عاقل یہی کہے گا کہ او بد عقل،بے ادب !اپنی حد پر رہ،جب یقینا معلوم ہے کہ بادشاہ کمال عادل اور جمیع کمال صفات میں یکتا وکامل ہے تو تجھے اس کے احکام میں دخل دینے کی کیا مجال!
گدائے خاك نشینی تو حافظا مخروش نظام مملکت خویش خسرواں دانند [2]
(تو خاك نشینی گداگر ہے اے حافظ ! شور مت کر،اپنی سلطنت کے نظام کو بادشاہ جانتے ہیں ت)
افسوس کہ دنیوی،مجازی،جھوٹے بادشاہوں کی نسبت تو آدمی کو یہ خیال ہو اور ملك الملوك بادشاہ حقیقی جل جلالہ کے احکام میں رائے زنی کرے،سلاطین تو سلاطین اپنا برابر زئی بلکہ اپنے سے بھی کم رتبہ شخص بلکہ اپنا نوکر یا غلام جب کسی صفت کا استاد ماہر ہو اور خود یہ شخص اس سے آگاہ نہیں تو اس کے اکثر کاموں کو ہر گز نہ سمجھ سکے گا،یہ اتنا ادراك ہی نہیں رکھتا،مگر عقل سے حصہ ہے تو اس پر معترض بھی نہ ہوگا۔جان لے گا کہ یہ اس کام کا استاد وحکیم ہے،میرا خیال وہاں تك نہیں پہنچ سکتا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع