30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وغیرہا بنا سکتا تھا،یو نہی اپنے لئے طاقت،قوت،ارادہ،اختیار بھی نہیں بنا سکتا،سب کچھ اس نے دیا اور اسی نے بنایا،مگر اس سے یہ سمجھ لینا کہ جب ہمارا ارادہ و اختیار بھی خدا ہی کا مخلوق ہے تو پھر ہم پتھر ہوگئے قابل سزاوجزاوباز پرس نہ رہے،کیسی سخت جہالت ہے،صاحبو ! تم میں خدا نے کیا پیدا کیا ؟ ارادہ و اختیار،تو ان کے پیدا ہونے سے تم صاحب ارادہ۔صاحب اختیار ہوئے یا مضطر،مجبور،ناچار،صاحبو ! تمھاری اور پتھر کی حرکت میں فرق کیا تھا،یہ کہ وہ ارادہ واختیار نہیں رکھتا اور تم میں اﷲ تعالٰی نے یہ صفت پیدا کی عجب عجب کہ وہی صفت جس کے پیدا ہونے نے تمھاری حرکات کو پتھر کی حرکات سے ممتاز کردیا،اسی کی پیدائش کو اپنے پتھر ہوجانے کا سبب سمجھو یہ کیسی الٹی مت ہے ؟ اﷲ تعالٰی نے ہماری آنکھیں پیدا کیں ان میں نور خلق کیا اس سے ہم انکھیارے ہوئے نہ کہ معاذاﷲ اندھے یونہی اس نے ہم میں ارادہ و اختیار پیدا کیا اس سے ہم اس کی عطاکے لائق مختار ہوئے،نہ کہ الٹے مجبور۔
ہاں یہ ضرور ہے کہ جب وقتا فوقتا ہر فرد اختیار بھی اسی کی خلق اسی کی عطا ہے ہماری اپنی ذات سے نہیں تو مختار کردہ ہوئے خود مختار نہ ہوئے پھر اس میں کیا حرج ہے ؟ بندے کی شان ہی نہیں کہ خودمختار ہوسکے نہ جزا وسزا کے لئے خود مختار ہونا ہی ضرور۔ایك نوع اختیار چاہیے،کس طرح ہو،وہ بداہۃ حاصل ہے۔
آدمی انصاف سے کام لے تو اسی قدر تقریر ومثال کافی ہے شہد کی پیالی اطاعت الٰہی ہے اور زہر کا کاسہ اس کی نافرمانی اور وہ عالی شان حکماء انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام۔اور ہدایت اس شہد سے نفع پانا ہے کہ اﷲ ہی کے ارادے سے ہوگا اور ضلالت اس زہر کا ضرور پہنچنا کہ یہ بھی اسی کے ارادے سے ہوگا مگر اطاعت والے تعریف کئے جا ئیں گے اور تمرد(سرکشی)والے مذموم و ملزم ہو کر سزا پائیں گے۔ پھر بھی جب تك ایمان باقی ہے " فَیَغْفِرُ لِمَنۡ یَّشَآءُ"[1](جسے چاہے بخش دے۔ت)باقی ہے۔
|
والحمد ﷲ رب العٰلمین،لہ الحکم و الیہ ترجعون۔ |
اور سب تعریفیں اﷲ کے لئے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا،حکم اسی کا ہے اور اسی کی طرف تمھیں لوٹنا ہے۔(ت) |
قرآن عظیم میں یہ کہیں نہیں فرمایا کہ ان اشخاص کو زیادہ ہدایت نہ کرو۔۔۔۔ہاں یہ ضرور فرمایا ہے کہ ہدایت ضلالت سب اس کے ارادہ سے ہے،اس کا بیان بھی ہوچکا اور آئندہ ان شاء اﷲ تعالٰی اور زیادہ واضح ہوگا۔نیز فرمایا:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع