30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پانی پیتا ہے اور چاہتا ہے کہ حلق سے اترے مگر اچھو ہو کر نکل جاتا ہے اس کا چاہانہیں چلتا۔جب تك وہی نہ چاہے جو صاحب سارے جہاں کا ہے۔
اب حلق سے اترنے کے بعد تو ظاہر ی نگاہوں میں بھی پینے والے کا اپنا کوئی کام نہیں،خون میں اس کا ملنا اور خون کا اسے لے کر دورہ کرنا اور دورہ میں قلب تك پہنچنا اور وہاں جاکر اسے فاسد کردینا یہ کوئی فعل نہ اس کے ارادے سے ہے نہ اس کی طاقت سے بہتیرے زہر پی کر نادم ہوتے ہیں،پھر ہزار کوشش کرتے ہیں جو ہونی ہے ہوکر رہتی ہے۔اگر اس کے ارادہ سے ضرر ہوتا تو اس ارادہ سے باز آتے ہی زہر باطل ہوجانا لازم تھا،مگر نہیں ہوتا تو معلوم ہوا کہ اس کا ارادہ بے اثر ہے پھر اس سے کیوں باز پرس ہوتی ہے ؟ ہاں،باز پرس کی وہی وجہ ہے کہ شہد اور زہر اسے بتادیے تھے،عالی قدر حکمائے عظام کی معرفت سے نفع نقصان جتادیے تھے،دست ودہاں وحلق اس کے قابو میں کردیے تھے،دیکھنے کو آنکھ،سمجھنے کو عقل اسے دے دی تھی،یہی ہاتھ جس سے اس نے زہر کی پیالی اٹھا کر پی،جام شہد کی طرف بڑھاتا اﷲ تعالٰی اسی کا اٹھنا پیداکردیتا،یہاں تك کہ سب کام اول تا آخر اسی کی خلق و مشیت سے واقع ہو کر اس کے نفع کے موجب ہوتے مگرا س نے ایسا نہ کیا بلکہ کاسہ زہر کی طرف ہاتھ بڑھایا ور اس کے پینے کا عزم لایا وہ غنی بے نیاز دونوں جہان سے بے پروا ہے وہاں تو عادت جاری ہورہی ہے کہ یہ قصد کرے اور وہ خلق فرما دے،اس نے اسی کا سہ کا اٹھنا اور حلق سے اترنا دل تك پہنچنا وغیرہ وغیرہ پیدا فرمادیا پھر یہ کیونکر بے جرم قرار پا سکتا ہے۔ انسان میں یہ قصد و ارادہ واختیار ہونا ایسا واضح و روشن وبدیہی امر ہے جس سے انکار نہیں کرسکتامگر مجنون،ہر شخص سمجھتا ہے کہ مجھ میں اور پتھر میں ضرور فرق ہے ہر شخص جانتا ہے کہ انسان کےچلنے پھرنے،کھانے پینے،اٹھنے بیٹھنے وغیرہ وغیرہ افعال کے حرکات ارادی ہیں ہر شخص آگاہ ہےکہ انسان کا کام کرنے کے لئے ہاتھ کو حرکت دینا اور وہ جنبش جو ہاتھ کو رعشہ سے ہو،ان میں صریح فرق ہے ہر شخص واقف ہےکہ جب وہ اوپر کی جانب جست کرتا اوراس کی طاقت ختم ہونےپر زمیں پر گرتا ہے ان دونوں حرکتوں میں تفرقہ ہے اوپر کودنا اپنے اختیار و ارادہ سے تھا اگر نہ چاہتا نہ کودتا اور یہ حرکت تما م ہوکر اب زمیں پر آنا اپنے ارادے واختیار سے نہیں۔
ولہذا اگر رکنا چاہے تو نہیں رك سکتا،بس یہی ارادہ،یہی اختیار جو ہر شخص اپنے نفس میں دیکھ رہا ہے عقل کے ساتھ اس کا پایا جانا،یہی مدار امر و نہی وجزا وسزا وعقاب وپرسش وحساب ہے،اگرچہ بلاشبہہ بلا ریب قطعا یقینا یہ ارادہ واختیار بھی اﷲ عزوجل ہی کا پیدا کیا ہو ا ہے جیسے انسان خود بھی اسی کا بنایا ہوا ہے آدمی جس طرح نہ آپ سے آپ بن سکتا تھا نہ اپنے لئے آنکھ،کان، ہاتھ،پاؤں،زبان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع