30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الدِّیۡنِ ۟ۙ قَدۡ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ ۚ"[1]کچھ زبردستی نہیں دین میں بے شك خوب جدا ہوگئی ہے نیك راہ گمراہی سے(ت)
باایں ہمہ کسی کا خالق ہونا،یعنی ذات ہو یا صفت،فعل ہو یاحالت،کسی معدوم چیز کو عدم سے نکال کر لباس وجود پہنا دینا،یہ اسی کاکام ہے ،یہ نہ اس نے کسی کے اختیار میں دیا نہ کوئی اس کا اختیار پاسکتا تھا،کہ تمام مخلوقات خود اپنی حد ذات میں نیست ہیں،ایك نیست دوسرے نیست کو کیا ہست بناسکے،ہست بنانا اسی کی شان ہےجو آپ اپنی ذات سے ہست حقیقی وہست مطلق ہے،ہاں یہ اس نے اپنی رحمت اور غنائے مطلق سے عادات اجراء فرمائے کہ بندہ جس امر کی طر ف قصد کرے اپنے جوارح ادھر پھیرے ،مولا تعالٰی اپنے ارادہ سے اسے پیدا فرمادیتا ہے مثلا اس نے ہاتھ دئےان میں پھیلنے،سمٹنے،اٹھنے،جھکنے کی قوت رکھی،تلوار بنائی،اس میں دھار،اور دھار میں کاٹ کی قوت رکھی۔اس کا اٹھانا،لگانا،وار کرنا بنایا،د وست دشمن کی پہچان کو عقل بخشی، اسے نیك وبد میں تمیز کی طاقت عطا کی،شریعت بھیج کر قتل حق و ناحق کی بھلائی برائی صاف جتادی۔زید نے وہی خدا کی بتائی ہوئی تلوار،خدا کے بنائے ہوئے ہاتھ،خداکی دی ہوئی قوت سے اٹھانے کا قصد کیا۔وہ خدا کے حکم سے اٹھ گئی اور جھکاکر ولید کے جسم پر ضرب پہنچانے کا ارادہ کیا،وہ خدا کے حکم سے جھکی او رولید کے جسم پر لگی۔تو یہ ضرب جن امور پر موقوف تھی سب عطائے حق تھے،اور خود جو ضرب واقع ہوئی بارادہ خدا واقع ہوئی۔اور اب جو اس ضرب سے ولید کی گردن کٹ جانا پیدا ہوگا یہ بھی اﷲ کے پیدا کرنے سے ہوگا۔وہ نہ چاہتا تو ایك زید کیا تمام انس وجن وملك جمع ہو کرزور کرتے تو اٹھنا درکنار،ہرگز جنبش نہ کرتی اور اس کے حکم سے اٹھنے کے بعد اگر وہ نہ چاہتا تو زمین،آسمان،پہاڑ سب ایك لنگر بنا کر تلوار کے پیپلے(نوک) پر ڈال دیے جاتے،نام کو بال برابر نہ جھکتی۔اور اس کے حکم سے پہنچنے کے بعد اگر وہ نہ چاہتا گردن کٹنا تو بڑی چیز ہے ممکن نہ تھا کہ خط بھی آتا۔لڑائیوں میں ہزاروں بار تجربہ ہوچکا کہ تلواریں پڑیں اور خراش تك نہ آئی،گولیاں لگیں اور جسم تك آتے آتے ٹھنڈی ہو گئیں،شام کو معرکہ سے پلٹنے کے بعد سپاہیوں کے سر کے بالوں میں سے گولیاں نکلی ہیں۔تو زید سے جو کچھ واقع ہوا سب خلق خدا و بارادہ خدا تھا۔زید کا بیچ میں صرف اتنا کام رہا کہ اس نے قتل ولید کا ارادہ کیا اور اس طرف اپنے جوارح کو پھیرا اب اگر ولید شرعا مستحق قتل ہے تو زید پر کچھ الزام نہیں رہا بلکہ بارہا ثواب عظیم کا مستحق ہوگا کہ اس نے اس چیز کا قصد کیا اور اس طرف جوارح کو پھیرا جسے اﷲ عزوجل نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے اپنی مرضی،اپنا پسندیدہ کام ارشاد فرمایا تھا۔اور اگر قتل ناحق ہے تو یقینًا زید پر الزام ہے اور عذاب الیم کامستحق ہوگا کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع