30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے صاف معنی یہ ہیں کہ جس امر کی طرف اس کی خواہش ہوگی وہ ہوگا۔پس انسان مجبور ہے اس سے باز پرس کیونکر ہوسکتی ہےکہ اس نے فلاں کام کیوں کیا،کیونکہ اس وقت اس کو ہدایت ازجانب باری عزاسمہ ہوگی وہ اختیار کرے گا۔علم اور ارادہ میں بین فرق ہے،یہاں من یشاء سے اس کی خواہش ظاہر ہوتی ہے۔پھر انسان باز پرس میں کیوں لایاجائے،پس معلوم ہوا کہ جب اﷲ پاك کسی بشر کو اہل جنان سے کرنا چاہتا ہے تو اس کو ایسی ہی ہدایت ہوتی ہے۔
الجواب:
|
اللھم ھدایۃ الحق والصواب،ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذھدیتنا وھب لنا من لدنك رحمۃ انك انت الوھاب، رب انی اعوذبك من ھمزات الشیٰطین واعوذ بك رب ان یحضرو ن۔ |
اے اﷲ ! میں تجھ سے حق اور درستگی کا طلبگار ہوں،اے ہمارے رب ! ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر بعد اس کے کہ تو نے ہمیں ہدایت دی،اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا کر،بیشك تو ہے بڑا دینے والا،اے میرے رب! تیری پناہ شیاطین کے وسوسوں سے،اور اے میرے رب ! تیری پناہ اس سے کہ وہ میرے پاس آئیں ۱۲(ت) |
اﷲ عزوجل نے بندے بنائے،اور انھیں کان،آنکھ،ہاتھ،پاؤں،زبان وغیرہا آلات و جوارح عطافرمائے اور انھیں کا م میں لانے کا طریقہ الہام کیا۔اور ان کے ارادے کا تابع وفرماں بردار کردیا کہ اپنے منافع حاصل کریں اور مضرتوں سے بچیں۔
پھر اعلی درجہ کے شریف جوہر یعنی عقل سے ممتاز فرمایا جس نے تمام حیوانات پر انسان کا مرتبہ بڑھایا۔عقل کو ان امور کے ادراك کی طاقت بخشی۔خیر وشر،نفع وضرر یہ حواس ظاہری نہ پہچان سکتے تھے۔پھر اسے بھی فقط اپنی سمجھ پر بے کس وبے یاور نہ چھوڑا،ہنوز لاکھوں باتیں جن کو عقل خودادراك نہ کرسکتی تھی،اور جن کا ادراك ممکن تھا ان میں لغزش کرنے،ٹھوکر کھانے سے پناہ کے لئے کوئی زبردست دامن ہاتھ میں نہ رکھتی تھی۔لہذا انبیاء بھیج کر،کتابیں اتار کر ذراذرا بات کا حسن و قبح خوب جتاکر اپنی نعمت تمام وکمال فرمادی کسی عذر کی جگہ باقی نہ چھوڑی" لِئَلَّا یَکُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللہِ حُجَّۃٌۢ بـَعْدَ الرُّسُلِ ؕ"[1] (کہ رسولوں کے بعداﷲ کے یہاں لوگوں کو کوئی عذر نہ رہے ت)حق کا راستہ آفتاب سے زیادہ واضح ہوگیا۔ہدایت وگمراہی پر کوئی پردہ نہ رہا " لَاۤ اِکْرَاہَ فِی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع