30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حرامی کیوں کہا جائے؟ کیونکہ جتنے افعال بندہ کرتا ہے وہ سب تقدیر سے اور حکمِ خدا سے ہوتے ہیں تو اب اس عورت نے کیا اپنی قدرت اور حکم سے ان فعلوں کو کرلیا،نہیں وہی کیا جو تقدیر میں لکھ دیا تھا پھر اس کو زنا یا حرام کہنا کیونکر ہے؟
(۳)اُس بچے کی روح پاك تھی یا ناپاک؟ یا اُن روحوں میں کی روح تھی جو روزِ ازل میں پیدا ہوئی تھیں یا کوئی اور؟اور اس کا کیا سبب جو بچہ حرامی ہوگیا اور روح پاك رہے نہیں روح بھی ایسی ہے جیسا بچہ حرامی کیونکر ہوسکتا ہے؟فقط
الجواب:
(۱)زید گمراہ بے دین ہے،اُسے کوئی جوتا مارے تو کیوں ناراض ہوتا ہے،یہ بھی تو تقدیر میں تھا۔اس کا کوئی مال دبالے تو کیوں بگڑتا ہے،یہ بھی تقدیر میں تھا۔یہ شیطانی فعلوں کا دھوکا ہے کہ جیسا لکھ دیا ایسا ہمیں کرنا پڑتاہے بلکہ جیسا ہم کرنے والے تھے اُس نے اپنے علم سے جان کر وہی لکھا ہے۔
(۲)یہ وہی ابِلیس ملعون کا دھوکا ہے جو بددینوں کو دیا کرتا ہے علم کسی کو مجبور نہیں کرتا۔عورت زنا کرنے والی تھی اس لیے اس کایہ آئندہ حال اس نے اپنے علم غیب سے جان کر لکھ لیا۔اگر وہ حلال کرنے والی ہوتی تو اسے حلال والی ہی لکھا جاتا۔
(۳)رُوحیں ازل میں پیدا نہ ہوئیں،ہاں جسم سے دو ہزار برس پہلے بنیں،ولدالحرام کا اپنا قصور نہیں مگر جبکہ وہ حرام سے پیدا ہوا ولد الحرام ہونے میں کیا شك ہے،نہ اس سے اس کی روح کی ناپاکی لازم۔روح کفر و ضلالت سے پاك ہوتی ہے،بددین کی روح ناپاك ہے اگرچہ ولدالحلال ہو۔اور دیندار کی رُوح پاك ہے اگرچہ اس کی ولادت حرام سے ہو،روح کے پاك ہونے سے جسم کا نطفہ حرام سے بننا کیونکر مٹ گیا۔بے علم کو ایسی جہالتوں اور ایسی باتوں میں خوض سے فائدہ نہیں ہوتا سوا اس کے کہ شیطان کسی گھاٹی میں راہ مار کر ہلاك کردے۔واﷲ تعالٰی اعلم ۔
_____________________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع