30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خاص کیا گیا ہے۔ت)اس ناس سے حسنین رضی اﷲ تعالٰی عنہما مستثنٰی ہیں،کیونکہ حسنین کریمین رضی اﷲ تعالٰی عنہما شاہزادگان دورمانِ نبوت ہیں اور حضرات خلفائے اربعہ وزرائے شہ سریر رسالت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہیں اور وزراء سے شاہزادوں کا مرتبہ بڑا ہوتا ہے تو معلوم ہوا کہ حسنین رضی اﷲ تعالٰی عنہما خلفائے اربعہ رضوان اﷲ تعالٰی علیہم سے افضل ہیں۔اس پر عمر کہتا ہے کہ سیدنا مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم تو سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ بلکہ سیدنا عثمان غنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے مرتبہ کے بعد ہیں،تو کیا حسنین رضی اﷲ تعالٰی عنہما اپنے والد ماجد رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے بھی افضل ہوجائیں گے،زید جوابًا کہتا ہے کہ یہ محال نہیں بلکہ ممکن بلکہ واقع ہے،دریافت طلب یہ امر ہے کہ زید کا استدلال کیسا ہے اور اس عقیدہ سے اس کی سنیت میں تو کوئی نقص نہ آیا۔
الجواب:
اگر وہ یہ کہتا کہ حضرات حسنین کریمین رضی اﷲ تعالٰی عنہما بوجہ جزئیت کریمہ ایك فضل جزئی حضرات عالیہ خلفائے اربعہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم پر رکھتے ہیں اور مرتبہ حضرات خلفاء کا اعظم و اعلٰی ہے تو حق تھا مگر اس نے اپنی جہالت سے فضل کلی سبطین کو دیا اور افضل البشر بعد الانبیاء ابوبکر الصدیق کو عام مخصوص منہ البعض ٹھہرایا اور انہیں امیر ا لمومنین مولٰی علی سے افضل کہا یہ سب باطل اور خلاف اہلسنت ہے اس عقیدہ باطلہ سے توبہ فرض ہے ورنہ وہ سنی نہیں اور اس کی دلیل محض مردود و ذلیل،اگر جزئیت موجب افضلیت مرتبہ عند اﷲ ہو تو لازم کہ آج کل کے بھی سارے میر صاحب اگرچہ کیسے ہی فسق و فجور میں مبتلا ہوں اﷲ عزوجل کے نزدیك امیر المومنین مولٰی علی سے افضل واعلٰی ہوں اور یہ نہ کہے گا مگر جاہل اجہل مجنون یا ضال مضل مفتون قال اﷲ عزوجل:
|
" قُلْ ہَلْ یَسْتَوِی الَّذِیۡنَ یَعْلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَعْلَمُوۡنَ ؕ"[1]۔ |
تم فرمادو کیا برابر ہوجائیں گے عالم اور بے علم۔ |
اور فرماتا ہے:
|
" یَرْفَعِ اللہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمْ ۙ وَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ ؕ"[2]۔ |
اﷲ بُلند فرمائے گا تم میں سے مومنوں اور بالخصوص عالموں کے درجے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع