30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اکرمکم میں آج کل متعدد رسائل رَدوہابیہ خذلہم اﷲ تعالٰی میں مشغول تھا۔خبر الٰہی مثل علم الٰہی ہے ان میں سے کسی کا خلاف ممکن نہیں،مگر یہ استحالہ بالغیر ہے،نفی قدرت نہیں کرتا علم الٰہی ازلی میں تھا کہ یہ زید کو فلاں وقت پیدا کرے گا اب واجب ہوا کہ زید اس وقت پیدا ہو،اگر نہ پیدا ہو تو معاذ اﷲ جہل لازم آئے لیکن اس سے یہ لازم نہ آیا کہ مولا تعالٰی اس کو پیدا کرنے پر مجبور ہوگیا،نہ پیدا کرنے پر قادر نہ رہا ورنہ پھر جہل لازم آئے کہ علم میں تو یہ تھا کہ اپنی قدرت سے اسے پیدا کرے گا اور یہ نہ ہوا بلکہ معاذ اﷲ مجبور ہوگیا۔حاشا بلکہ زید کا وجود وفنا ازلًا ابدًا تحتِ قدرت ہے اور تعلق علم کے سبب جس وقت اس کا وجودِ علم الٰہی میں تھا وجود واجب ہے اور جس وقت فنا فنا واجب ہے کہ خلاف ہو تو جہل ہو اور جہل محال بالذات ہے اس محال بالذات نے ان ممکنات کو اپنے اپنے وقت میں واجب بالغیر کردیا اس سے معاذ اﷲ نہ قدرت مسلوب ہوئی نہ جہل ممکن،بعینہ یہی بات خبر الٰہی میں ہے اس نے خبر دی کہ اہل جنت کو جنت میں ہمیشہ رکھے گا ان کا خلود واجب ہوگیا۔اگر نہ ہو تو معاذ اﷲ کذب لازم آئے۔مگر اس سے انقطاع پر قدرت مسلوب نہ ہوئی خلودو انقطاع دونوں ازلًا ابدًا زیر قدرت ہیں مگر تعلق خبر نے خلود کو واجب بالغیر کردیا اس سے نہ قدرت مسلوب ہوئی نہ معاذ اﷲ کذب ممکن۔کذب کے محال بالذات ہونے ہی نے تو اس ممکن کو واجب بالغیر کردیا اگر اس سے کذب ممکن ہوجائے تو اسے واجب کون کرے،مولا عزوجل کے وعدو وعید کسی میں تخلف ممکن نہیں خود وعید ہی کے لیے ارشاد ہوا ہے۔ " مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ"[1]۔میرے یہاں بات بدلتی نہیں۔ت)جیسے وعدہ کوفرمایا: " وَلَنۡ یُّخْلِفَ اللہُ وَعْدَہٗ ؕ"[2]۔ (اور اﷲ تعالٰی ہر گز اپنا وعدہ جھوٹا نہ کرے گا۔ت)بعض کے کلام میں کہ خلف وعید کا لفظ واقع ہوا تصریحات ہیں کہ اس سے مراد عفو ہے،یہ اگر معاذ اﷲ امکانِ کذب ہو تو امکان کیسا وقوع ہوا کہ عفو یقینًا واقع ہوگا،اس کی مفصل بحث سبحٰن السبوح میں ہے آیہ کریمہ " اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّکَ ؕ"[3]۔(مگر جتنا تمہارے رب نے چاہا۔ت)کے وہ معنی بعونہ تعالٰی ذہنِ فقیر میں ہیں جن کے بعد ہر گز ہر گز کسی تاویل کی حاجت نہیں،معنی ظاہر پر بلا تکلف مستقیم ہیں خلودِ اہل دارین کو عمر آسمان و زمین سے مقدر فرمایا ہے " مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرْض"۔[4] (جب تك آسمان و زمین رہیں گے۔ت)ظاہر ہے کہ اس سے یہ بقائے آسمان وز مین مراد نہیں جو نفخِ صور پر منقطع ہے بلکہ سماء و ارض کہ روزِ قیامت اعادہ کیے جائیں گے اُن کی عمر مراد ہے جو ابدی ہے اور کچھ شك نہیں کہ اس کی مقدار جنتیوں کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع