30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مقتضی کرمہ ان یبتنی اخبارہ علی المشیۃ فجمیع ا لعمومات الواردفی الوعید متعلقۃ بالمشیۃ وان لم یصرح بھا زجر اللعاصین ومنعًا لھم فلا یلزم الکذب والتبدیل بخلاف وعدالکریم فانہ یجب ان یکون قطعیا لان الخلف فیہ لوم فلا یجوز تعلیقہ بالمشیۃ [1]۔ |
اس کے کرم کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ وعید کے بارے میں اس کی خبر مشیت پر مبنی ہو۔چنانچہ وعید کے سلسلے میں وارد تمام عمومات مشیت کے ساتھ منسلك ہیں اگرچہ نافرمانوں کی زجرو توبیخ اور انہیں گناہ سے باز رکھنے کی خاطر کریم نے اس کی تصریح نہ کی ہو لہذا اس میں جھوٹ اور تبدیلی لازم نہیں آتی بخلاف کریم کے وعدے کے اس کا قطعی ہونا واجب ہے اس لیے کہ اس میں خلف لوم ہے چنانچہ اس کو مشیت پر معلق کرنا جائز نہیں(ت) |
دوسرا خط عریضہ ملفوف تخمینًا بارہ۱۲ روز ہوئے ہوں گے،فدوی روانہ خدمت فیضد رجت کرچکا ہے ہنوز جواب سے محروم ہے، اُس عریضہ میں متعلق آیت " فَمِنْہُمْ شَقِیٌّ وَّسَعِیۡدٌ ﴿۱۰۵﴾"دریافت کیا تھا کہ اہل جنت کی بابت بعد مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرْضُ (جب تك آسمان و زمین رہیں گے۔ت)کے " اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّکَ ؕ"(مگر جتنا تمہارے رب نے چاہا۔ت)سے اگر کوئی شبہہ کرے کہ قدرت خلود ابدی کے خلاف کرنے پر معلوم ہوتی ہے اگرچہ ہر گز خلاف وعدہ نہ فرمائے گا چنانچہ صراحۃً بھی عطاء غیر مجذوذ کے فرمادیا ہے تو کیا شبہہ ہے۔تفسیر ابن جریرو عرائس البیان میں ہے:
|
قال ابن مسعود لیاتین علی جہنم زمان تخفق ابوابھا لیس فیھا احد[2]۔ |
ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ جہنم پر ضرور ایك ایسا زمانہ آئے گا جب اس کے تمام دروازے خالی ہوجائیں گے اور اس میں کوئی ایك شخص بھی نہیں رہے گا۔(ت) |
اس کا کیا مطلب ہے؟
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلیّ علٰی رسولہ الکریم مولانا المکرم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع