30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تفسیر کبیر میں دیکھی۔
|
" وَ اَمَّا الَّذِیۡنَ سُعِدُوۡا فَفِی الْجَنَّۃِ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّکَ ؕ عَطَآءً غَیۡرَ مَجْذُوۡذٍ ﴿۱۰۸﴾"[1]۔ |
اور جو خوش نصیب ہوئے وہ جنت میں ہمیشہ رہیں گے جب تك آسمان و زمین رہیں مگر جتنا تمہارے رب نے چاہا یہ بخشش ہی کبھی ختم نہ ہوگی۔(ت) |
کے متعلق لکھا ہے:
|
الاستثناء فی باب السعداء یجب حملہ علٰی احد الوجوہ المذکورۃ فیما تقدم وھناوجہ اٰخروھوانہ ربما اتفق لبعضھم ان یرفع من الجنۃ الی العرش و الی المنازل الرفیعۃ التی لایعلمھا الا اﷲ تعالٰی [2]۔ |
خوش نصیبوں کے بارے میں استثناء کو ماقبل میں مذکور وجوہ میں سے کسی ایك پر محمول کرنا لازم ہے اور یہاں پر ایك دوسری وجہ ہے وہ یہ کہ بسا اوقات بعض کے لیے یہ اتفاق ہوتا ہے کہ اسے جنت سے عرش اور ان بُلند منزلوں کی طرف رفعت بخشی جاتی ہے جن کو اﷲ تعالٰی کے سوا کوئی نہیں جانتا۔(ت) |
اگر کوئی کہے کہ الفاظ غیر مجذوذ سے معلوم ہوا کہ عطا غیر منقطع ہوگی مگر استثناء ماشاء ربك ہے قدرت منقطع کرنے پر معلوم ہوتی ہے اگرچہ ہر گز ہر گز مشیئت منقطع کرنے کے لیے متعلق نہ فرمائے گا تو اس کا کیا جواب ہے حضور کا رسالہ جلد اول سبحن السبوح فدوی کے پاس ہے۔مولانا مولوی امجد علی صاحب سے چند کتابیں مثل ظفر الطیب وغیرہ ونیز جلد ثانی سبٰحن السبوح کی کمترین نے بذریعہ ویلوطلب کی ہیں کتاب صیانۃ الناس عن وساوس الخناس تصنیف مولانا نذیراحمد خاں صاحب مرحوم رامپوری میں لکھا ہے۔اخبارِ وعدہ ثواب کا قطعی ہونا اور مشیت پر مبنی نہ ہونا واجب ہے کہ اس کے خلاف میں لوم ہے جس سے خدائے تعالٰی پاك ومنزہ ہے۔
|
قال عبدالحکیم فی الحاشیۃ علی الخیالی لعل مراد ذٰلك البعض بقولھم ان الخلف فی الوعید کرم ان الکریم اذا زجر بالوعید فاللائق بحالہ و |
ملا عبدالحکیم نے خیالی کے حاشیہ مین کہا،شاید اس بعض کی مراد اپنے اس قول سے کہ وعید میں خلف کرم ہے یہ ہو کہ کریم جب وعید کے ساتھ زجر فرمائے تو اس کے حال کے لائق اور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع