30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
علیھم وسلم اذن لھم فی الخروج من قبورھم للتصرف فی الملکوت العلوی والسفلٰی۔[1] |
اور تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو اجازت ہے کہ آسمان و زمین کی سلطنت الہٰی میں تصرف فرمانے کے لیے اپنے مزارات طیبہ سے باہر تشریف لے جائیں۔ |
علامہ زرقانی فرماتے ہیں:
|
ونحوہ یاتی للمصنف فی غیر موضع من ھٰذا الکتاب۔[2] |
یعنی اس کے مثل امام احمد قسطلانی نے مواہب شریفہ میں جا بجا تصریح فرمائی ہے۔ |
امام ابن حجر مکی فتاوی کبرٰی باب الجنائز میں فرماتے ہیں:
|
روح نبیّنا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ربما تظہرفی سبعین الف صورۃ ۔[3] |
ہمارے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی روح اقدس ستّر ہزار صورتوں میں جلوہ گر ہوتی ہے۔ |
حضور عین نور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی شانِ اقدس تو بُلند و بالا ہے،امام اجل عبداﷲ بن مبارك و ابوبکر بن ابی شیبہ استاد بخاری ومسلم حضرت عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ عنھما سے وقفًا اور امام احمد مسند اور حاکم صحیح مستدرك اور ابونعیم حلیہ میں بسندِ صحیح حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے رفعًا راوی،وھذاحدیث ابی بکر:
|
اذا مات المؤمن یخلی سربہ یسرح حیث شاء[4]۔ |
جب مسلمان کا انتقال ہوتا ہے اس کی راہ کھول دی جاتی ہے جہاں چاہے جاتا ہے۔ |
ہم نے اپنے رسالہ اتیان الارواح لدیار ھم بعد الرواح میں اس پر بہت روایات ذکر کیں بلکہ حضور انور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا مجالس طیبہ میں تشریف لانا بایں معنی نہیں کہ نہ تھے اور تشریف لائے کہ وہ تو ہر وقت مسلمانوں کے گھروں میں تشریف فرماہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع