30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا خاتم النبین بمعنی نبی آخر الزماں ہونا(جیسے خود رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے آج تك سب مسلمان سمجھ رہے)جاہلوں کا خیال ہے نافہمی ہے یہ وصف کریم نہ کوئی کمال ہے نہ اُسے فضیلت میں دخل نہ وہ مدح میں ذکر کرکے قابل آیت کے یہ معنی ہوں تو خدا پر زیادہ گوئی کا وہم[1] قرآن کی عبارت بے ربط(تحذیر الناس نانوتوی صاحب ص ۲ و ۳)بلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبی صلعم عــــــہ۱ بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔ [2] (تحذیر الناس ص ۳۳)بڑوں(علماء و ائمہ و صحابہ خود حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم)کا فہم نہ پہنچا۔طفل ناداں یعنی نانوتوی صاحب)نے ٹھکانے کی بات کہہ دی۔[3] (تحذیر الناس ص ۳۴)یعنی یہ کہ خاتم النبین کہنا محض جھوٹی ہوا بندی ہے اس لیے کہ ختم زمانی جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سے آج تك تمام صحابہ و ائمہ و علماء و مسلمین(ان کے زعم میں)براہِ نا فہمی سمجھے ہوئے تھے اور ص ۱۱ تحذیر الناس پر خود برائے تصنع کہا تھا کہ اس کا منکر بھی کافر ہوگا۔[4]وہ تو اس صورت میں کہ بعد زمانہ نبوی صلعم۔ عــــــہ۲ بھی کوئی نبی پیدا ہو بداہۃً زائل ہو ہی گیا کہ وہ تو خود بہ اقرار تحذیر الناس ص ۲ یہی تھا کہ آپ سب میں آخری نبی ہیں۔[5]جب حضور کے بعد اور نبی پیدا ہوا تو سب میں آخری کب رہیں گے یہ توگیا ہی اور اس کے جاتے ہی نانوتوی صاحب کا ساختہ ختم ذاتی بھی ختم شد کہ اسے ختمِ زمانی لازم تھا تحذیر ص ۹ ختم نبوت بمعنی معروض کوتأخر زمانی لازم ہے۔[6]لازم گیا تو ملزوم کہاں غرض نہ ختم زمانی رہا نہ ذاتی،سب فنا اور خاتمیت بجا اس میں کچھ فرق نہ آئے گا " کَذٰلِکَ یَطْبَعُ اللہُ عَلٰی کُلِّ قَلْبِ مُتَکَبِّرٍ جَبَّارٍ ﴿۳۵﴾ " ۔[7] (اﷲ تعالٰی یونہی مہر کردیتا ہے متکبر سرکش کے سارے دل پر (ت) یہ ہے وہ ٹھکانہ کی بات
عــــــہ۱و عــــــہ ۲:ہم کہتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ۱۲ منہ غفرلہ
[1] تحذیر الناس کتب خانہ رحیمیہ دیوبند سہارن پور ص ۲۱
[2] تحذیر الناس کتب خانہ رحیمیہ دیوبند سہارن پور ص ۲۵
[3] تحذیر الناس کتب خانہ رحیمیہ دیوبند سہارن پور ص ۲۶
[4] تحذیر الناس کتب خانہ رحیمیہ دیوبند سہارن پور ص ۱۰
[5] تحذیر الناس کتب خانہ رحیمیہ دیوبند سہارن پور ص ۳
[6] تحذیر الناس کتب خانہ رحیمیہ دیوبند سہارن پور ص ۸
[7] القرآن الکریم ۴۰/ ۴۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع