30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وقال اﷲ تعالٰی:
|
" وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللہِ وَ رُسُلِہٖۤ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصِّدِّیۡقُوۡنَ ٭ۖ وَ الشُّہَدَآءُ عِنۡدَ رَبِّہِمْ ؕ لَہُمْ اَجْرُہُمْ وَ نُوۡرُہُمْ ؕ"[1]۔ |
اور وہ جو اﷲ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائیں وہی ہیں کامل سچے اور اوروں پر گواہ اپنے رب کے یہاں ان کے لیے ان کا ثواب اور ان کا نور ہے۔(ت) |
وقال اﷲ تعالٰی:
|
" یَوْمَ لَا یُخْزِی اللہُ النَّبِیَّ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ ۚ نُوۡرُہُمْ یَسْعٰی بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمْ وَ بِاَیۡمٰنِہِمْ"[2]۔ |
جس دن اﷲ تعالٰی رسوا نہ کرے گا نبی اور ان کے ساتھ کے ایمان والوں کو،ان کا نور دوڑتا ہوگا اُن کے آگے اور ان کے دائیں۔(ت) |
صحابہ کرام میں سب سے افضل و اکمل و اعلٰی واقرب الی اﷲ خلفائے اربعہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم تھے اور انکی افضلیت ولایت بترتیبِ خلافت،یہ چاروں حضرات سب سے اعلٰی درجے کے کامل مکمل ہیں اور دارائے نیابت نبوت ہونے میں شیخین رضی اﷲ تعالٰی عنہما کا پایہ ارفع ہے اور دارائے تکمیل ہونے میں حضرت مولا علی مرتضٰی شیرِ خدا مشکل کُشا کا،رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین،واﷲ اعلم۔
مسئلہ ۸۹: قصبہ بشارت گنج ضلع بریلی فتح محمد ۱۲ جمادی الاخر ۱۳۳۶ھ یوم ہفتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ پارہ ۹ سورہ اعراف میں یہ آیہ کریمہ آتی ہے۔
|
" وَلَوْ کُنۡتُ اَعْلَمُ الْغَیۡبَ لَاسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیۡرِۚۛ وَمَا مَسَّنِیَ السُّوۡٓءُ ۚۛ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیۡرٌ وَّ بَشِیۡرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوۡنَ ﴿۱۸۸﴾٪ "۔[3] |
اور اگر میں غیب جان لیا کرتا تو یوں ہوتا کہ میں نے بہت بھلائی جمع کرلی اور مجھے کوئی برائی نہ پہنچی،میں تو یہی ڈر اور خوشی سنانے والا ہوں انہیں جو ایمان رکھتے ہیں۔(ت) |
اس کے کیا معنی ہیں اور اس کا شانِ نزول کیا ہے اور اس سے علمِ غیب کی نفی ہوتی ہے یا نہیں؟
الجواب:
اگر میں اپنی ذات سے بے خدا کے بتائے غیب جانتا تو بہت سی خیر جمع کرلیتا اور مجھے کوئی برائی تکلیف نہ پہنچتی،میں تو ایمان والوں کو ڈر اور خوشخبری ہی سنانے والا ہوں کافروں کے مہمل سوالات پر اتری تھی۔اس سے علمِ غیب ذاتی کی نفی ہوتی ہے کہ بے خدا کے بتائے مجھے علم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع