30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
" اِنَّ الَّذِیۡنَ سَبَقَتْ لَہُمۡ مِّنَّا الْحُسْنٰۤیۙ اُولٰٓئِکَ عَنْہَا مُبْعَدُوۡنَ ﴿۱۰۱﴾ۙلَا یَسْمَعُوۡنَ حَسِیۡسَہَا ۚ وَ ہُمْ فِیۡ مَا اشْتَہَتْ اَنۡفُسُہُمْ خٰلِدُوۡنَ ﴿۱۰۲﴾ۚ لَا یَحْزُنُہُمُ الْفَزَعُ الْاَکْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىہُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ؕ ہٰذَا یَوْمُکُمُ الَّذِیۡ کُنۡتُمْ تُوۡعَدُوۡنَ ﴿۱۰۳﴾ "[1]۔ |
بے شك جن سے ہمارا وعدہ بھلائی کا ہوچکا وہ جہنم سے دُور رکھے گئے ہیں اس کی بھِنك تك نہ سُنیں گے اور وہ اپنی من مانتی مرادوں میں ہمیشہ رہیں گے،اُنہیں غم میں نہ ڈالے گی بڑی گھبراہٹ،فرشتے ان کی پیشوائی کوآئیں گے یہ کہتے ہوئے کہ یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تم سے وعدہ تھا۔ |
سچا اسلامی دل اپنے رب عزوجل کا یہ ارشاد عام سن کر کبھی کسی صحابی پر نہ سوءِ ظن کرسکتا ہے نہ اس کے اعمال کی تفتیش،بفرض غلط کچھ بھی کیا تم حاکم ہو یا اللہ،تم زیادہ جانو یا اﷲ،" ءَاَنۡتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللہُؕ"[2]۔ (کیا تمہیں علم زیادہ ہے یا اﷲ تعالے کو،ت) دلوں کی جاننے والا سچا حاکم یہ فیصلہ فرماچکا کہ مجھے تمہارے سب اعمال کی خبر ہے میں تم سے بھلائی کا وعدہ فرماچکا۔اس کے بعد مسلمان کو اس کے خلاف کی گنجائش کیا ہے،ضرور ہر صحابی کے ساتھ حضرت کہا جائے گا،ضرور رضی اﷲ تعالٰی عنہ کہا جائے گا،ضرور اس کا اعزاز و احترام فرض ہے۔" وَلَوْکَرِہَ الْمُجْرِمُوۡنَ ۚ﴿۸﴾"[3](اگرچہ مجرم بُرا مانیں۔ت)
(۲)اُس کا جواب بھی جواب اوّل سے واضح ہوچکا،بلاشبہہ اُن کی خطا خطائے اجتہادی تھی اور اس پر الزامِ معصیت عائد کرنا اس ارشاد الٰہی کے صریح خلاف ہے۔
(۳)مسلمانوں کا اجماع ہے کہ کوئی غیر نبی کسی نبی کے برابر نہیں ہوسکتا،جو کسی غیر نبی کو کسی نبی کے ہمسر یا افضل جانے وہ بالاجماع کافر مرتد ہے۔مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ کا مرتبہ انبیائے بنی اسرائیل یا کسی نبی سے بالا یا برابر ماننا واجب درکنار کفر خالص ہے اور ملعون افترائی حکایت عجب مضحکہ خیز ہے،گیہوں کھانا ہی اگر دلیل افضلیت ہو تو مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ نے اتنے گیہوں ہر گز نہیں کھائے جتنے زید و عمر و آج کل کھارہے ہیں،اُس بادشاہِ ملك ولایت کی اکثر غذا باتباعِ سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جو تھی،اور وہ بھی اکثر ایك وقت،اور وہ بھی پیٹ بھر کر نہیں۔اور زید و عمر و رات دن میں دو دو وقت گیہوں کھاتے ہیں تو یہ معاذ اﷲ آدم علیہ السلام سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع