30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں الحاق ہوئے اور حضرت شیخ اکبر کے کلام میں تو الحاقات کا شمار نہیں جن کا شافی بیان امام عبدالوہاب شعرانی نے کتاب الیواقیت والجواہر میں فرمایا او ر فرمایا کہ خود میری زندگی میں میری کتاب میں حاسدوں نے الحاقات کیے،اسی طرح حضرت حکیم سنائی و حضرت خواجہ حافظ و غیرہما اکابر کے کلام میں الحاقات ہونا شاہ عبدالعزیز صاحب نے تحفہ اثناء عشریہ میں بیان فرمایا،کسی الماری میں کوئی قلمی کتاب ملے اس میں کچھ عبارت ملنی دلیل شرعی نہیں کہ بے کم و بیش مصنف کی ہے پھر اس قلمی نسخہ سے چھاپا کریں تو مطبوعہ نسخوں کی کثرت کثرت نہ ہوگی اور ان کی اصل وہی مجہول قلمی ہے جیسے فتوحات مکیہ کے مطبوعہ نسخے۔
ثالثًا:اگر بہ سند ہی ثابت ہو تو تو اترو تحقیق درکار امام حجۃ الاسلام غزالی وغیرہ اکابر فرماتے ہیں:
|
لاتجوز نسبۃ مسلم الٰی کبیرۃ من غیر تحقیق،نعم یجوز ان یقال قتل ابن ملجم علیّا فان ذٰلك ثبت متواترا۔[1] |
بلا تحقیق مسلمان کی طرف گنا ہِ کبیرہ کی نسبت کرنا جائز نہیں، ہاں یوں کہنا جائز ہے کہ ابن ملجم نے حضرت علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو قتل کیا،کیونکہ یہ خبر متواتر سے ثابت ہے۔(ت) |
جب بے تحقیق تام عام مسلمان کلمہ گو کی طرف گناہ کی نسبت ناجائز ہے تو اولیاء کرام کی طرف معاذ اﷲ کلمہ کفر کی نسبت بلا ثبوت قطعی کیسے حلال ہوسکتی ہے۔
رابعًا:سب فرض کرلیں تو اب وہابی کے جواب کا حاصل یہ ہوگا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی توہین بری نہیں کہ فلاں فلاں نے بھی کی ہے کیا یہ جواب کوئی مسلمان دے سکتا ہے،بفرض غلط توہین جس سے ثابت ہو وہ ہی مقبول نہ ہوگا نہ یہ کہ معاذ اﷲ اس کے سب توہین مقبول ہوجائے۔
|
ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ ہی نیکی کرنے کی قوت مگر بُلند وعظمت والے اﷲ کی توفیق سے،واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۷۶ تا ۷۸: مرسلہ محمد عبدالواحد خان صاحب بمبئی اسلامپورہ ۱۴ ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ
(۱)لامھدی الاعیسٰی(حضرت عیسٰی علیہ السلام کے سوا کوئی مہدی نہیں۔ت)کے متعلق کیا رائے ہے؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع