30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۵)اُن پر اجتماعِ امت ہوگا یعنی اہلِ حل وعقد اُنہیں والیئ ملك و خلیفہ صدق مانیں گے،سنن ابی داؤد میں ہے:
|
لایزال ھذاالدین قائماحتی یکون علیکم اثنا عشر خلیفۃ کلھم تجتمع علیہ الامّۃ۔[1] |
یہ دین اس وقت تك قائم رہے گا جب تك تم پر بارہ خلفاء حاکم ہوں،جن پر تمام امت متفق ہوگی۔(ت) |
(۶ و ۷)وہ سب ہدایت و دین حق پر عمل کریں گے ان میں سے دو۲ اہلبیتِ رسالت سے ہوں گے۔استاذ امام بخاری و مسلم مسدد کی مسند کبیر میں ابوالجلد سے ہے:
|
انہ لاتھلك ھٰذہ الامۃ حتی یکون منہا اثنا عشر خلیفۃ کلھم یعمل بالھدٰی و دین الحق،منھم رجلان من اھل بیت محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم[2]۔ |
بے شك یہ امت اس وقت تك ہلاك نہ ہوگی جب تك ان میں بارہ خلفاء حکمران ہوں گے،وہ سب ہدایت و دین حق پر عمل کریں گے ان میں سے دو۲ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے اہلبیت میں سے ہوں گے۔(ت) |
لگتے لگانے والوں میں جس نے سب طرق حدیث نہ دیکھے ایك آدھ طریق کو دیکھ کر کوئی احتمال نکال دیا جیسے ابوالحسین بن مناوی نے یہ معنی لیے کہ ایك وقت میں بارہ خلیفہ ہوں گے یعنی اس قدر اختلاف یہ فقط اُس لفظ مجمل بخاری پر بن سکتا تھا اور الفاظ دیکھئے تو کہاں اس درجہ افتراق اور کہاں اجتماع اور ایسی حالت میں اسلام کے قوی و غالب و قائم اور امرامت کے صالح ہونے کے کیا معنی؟ اس قبیل سے علی قاری کا یہ زعم باتباع ابن حجر شافعی ہے کہ صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے آخرولاۃ بنی امیہ تك ۱۲ ہوئے اور ان میں یزید پلید علیہ ماعلیہ کو بھی گنادیا حالانکہ اُس خبیث کے زمانہ کو قوتِ دین و صلاح سے کیا تعلق،یہ احادیث دیکھ کر اس قول کی گنجائش نہ ہوتی،مگر صرف ۱۲ سلطنتیں نگاہ میں تھا اور حق یہ کہ اُس خبیث پر اجتماع اہلِ حل و عقد کب ہوا،ریحانہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سیدنا امام حسین رضی اﷲ تعالٰی عنہ اُس کے دستِ ناپاك پربیعت نہ کرنے ہی کے باعث شہید ہوئے،اہلِ مدینہ نے اُس پر خروج کیا۔عبدا ﷲ بن حنظلہ غسیل الملائکہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع