30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حسبِ مفاد حدیث اسلام و اسلامیان دنیا میں باقی ہیں یا کیا؟
(۵)شرح فقہ اکبر ملا علی قاری کہ صفحہ ۸۲ یا کسی دوسرے صفحہ پربارہ خلفاء کے جو نام ظاہر کیے گئے ہیں وہ صحیح ہیں یا غلط؟
الجواب:
اصل یہ ہے کہ امورِ غیب میں اﷲ و رسول جل و علا و صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جتنی بات بیان فرمائیں اتنی یقینا حق ہے اور جس قدر ذکر نہ فرمائیں اس کی طرف یقین کی راہ نہیں کہ غیب بے خدا و رسول کے بتائے معلوم نہیں ہوسکتا لہذا اس حدیث کے معنٰی میں زمانہ تابعین سے اشتباہ رہا۔مہلب نے فرمایا:
|
لم الق احدایقطع فی ھذاالحدیث بمعنی [1]۔ |
میں نے کوئی ایسا نہ پایا کہ اس حدیث کی کوئی مراد قطعی بتاتا۔ |
امام قاضی عیاض مالکی نے شرح صحیح مسلم میں بہت احتمالات بتا کر فرمایا:
|
وقد یحتمل وجوھا اٰخرواﷲ اعلم بمراد نبیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم[2]۔ |
یعنی اس کے سوا حدیث میں اور احتمال بھی نکل سکتے ہیں اور اﷲ اپنے نبی کی مراد خوب جانے،جل و علا وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔ |
امام ابن جوزی کشف المشکل میں لکھتے ہیں:
|
قد اطلت البحث عن معنی ھذاالحدیث وطلبتہ فی مظانہ وسألت عنہ فمارأیت احدًا وقع علی المقصود بہ۔[3] |
میں نے مدتوں اس حدیث کے معنی کی تفتیش کی اور جہاں جہاں گمان تھا وہ کتابیں دیکھیں اپنے زمانے کے ائمہ سے سوال کئے مگر مراد متعین نہ ہوئی۔ |
اور ہو کیونکر کہ جس غیب کی اﷲ و رسول تفصیل نہ فرمائیں اس کی تفصیل قطعًا کیونکر معلوم ہو،ہاں لوگ لگتے لگاتے ہیں جن میں سے کسی پر یقین نہیں،البتہ یہ معیار صحیح ہے کہ حدیث میں جو جو نشان اُن بارہ خلفاء کے ارشاد ہوئے جس معنی میں نہ پائے جائیں باطل ہیں اور جس میں پائے جائیں وہ احتمالی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع