30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
مجلس میلاد مبارك و قیام کا ثبوت ہزاروں بار دے دیا،اور اب اجمالًا یہ ہے کہ ان کا ثبوت وہاں سے ہے جہاں سے وہابیہ کے کفر کا ثبوت آیا ہے،واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۶۶: مسئولہ شفیع احمد فقیر قادری رضوی طالب علم مدرسہ منظر اسلام ۲۱ جمادی الاخرٰی ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شرح عقائد عضدیہ للمحقق الدوانی رحمۃ اﷲ علیہ کے خطبہ میں ہے۔
|
یا من وفقنا لتحقیق العقائد الاسلامیۃ وعصمنا عن التقلید فی الاصول والفروع الکلامیۃ۔[1] |
اے وہ ذات جس نے ہمیں عقائد اسلامیہ کی تحقیق کی توفیق عطا فرمائی اور ہمیں اصولِ کلامیہ اور فروع کلامیہ میں تقلید سے بچایا۔ |
اور یہ بھی مشہور ہے:
|
لا تقلید فی الاعتقادیات۔[2] |
اعتقادیات میں تقلید نہیں۔(ت) |
حضور اگر ایسا ہے تو جاہل کے لیے یہ کیوں ہے کہ جب اس کے سامنے کوئی عقیدہ پیش کیا جائے اور یہ نہ جانتا ہو تو کہے میرا وہ عقیدہ ہے جو اہل سنت کا ہے بلکہ کوئی جاہل بلکہ اکثر معمولی عالم اکثر عقائد کے استدلال نہیں جانتے اور ہم اکثر ثبوت عقائد میں اقوال ائمہ پیش کرتے ہیں اور یہ طریق اثبات تصانیف علمائے عظام میں موجود یا اس کے معنٰی یہ ہیں کہ عقائد کا علم یقینی مثل علم امر محقق ہو،نہ علم ظنی مثل علم مرد مقلد۔
الجواب:
جس طرح فقہ میں چار اصول ہیں،کتاب سنت،اجماع،قیاس،عقائد میں چار اصول ہیں،کتاب،سنت،سواد اعظم، عقل صحیح، تو جو ان میں ایك کے ذریعہ سے کسی مسئلہ عقائد کو جانتا ہے دلیل سے جانتا ہے نہ کہ بے دلیل محض تقلیدًا اہل سنت ہی سواد اعظم اسلام ہیں،تو ان پر حوالہ دلیل پر حوالہ ہے نہ کہ تقلید۔یوں ہی اقوالِ ائمہ سے استناد اسی معنٰی پر ہے کہ یہ اہلسنت کا مذہب ہے ولہذا ایك دو دس بیس علماء کبا ر ہی سہی اگر جمہور و سواد اعظم کے خلاف لکھیں گے اس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع