30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ازینجاست حفظ اعراس مشائخ۔[1] |
مشائخ کے عرس منانا اس حدیث سے ثابت ہے(ت) |
گیارھویں شریف کی تعیین بھی اسی باب سے ہی مگر ثواب کی کمی بیشی اس پر نہیں جب کریں ویسا ہی ثواب ہوگا۔ہاں اوقاتِ فاضلہ میں اعمال فاضلہ زیادہ نورانیت رکھتے ہیں،واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۵۵:از بریسال ڈاکخانہ مہر گنج محلہ چڑ لکھی مکان منشی عبدالکریم۔مرسلہ محمد حسن صاحب ۱۶ جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ
|
آناں بملك مابرائے چند کلام نزع برفع اند اولًا مابین علمائے چند فریق شدہ اند یك دیگرے راوہابی گویند و درپیش آں صلوۃ خوانی مکروہ تحریمی و عقائد قوم و جماعت وہابیہ اینکہ مولود خوانی و زیارتِ قبور و فاتحہ و تسبیح و تہلیل وعرس کردن ایں سب امور راحرام گویندو انجا افعال کنندہ را بدعتی گویند درپیش ایں جماعت رانمازنمی خواند وایں ہر دو جماعت ہمیچال فساد می کنند لکن کیفیت وہابی و سنی چیست نہ معلوم اند۔ |
ہمارے ملك میں چند اختلافی باتیں اٹھ کھڑی ہوئی ہیں جن میں سے پہلی یہ کہ علماء کے درمیان کچھ گروہ ہیں جو ایك دوسرے کو وہابی کہتے ہیں اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے کو مکروہ تحریمی قرار دیتے ہیں۔وہابی قوم کے عقائد یہ ہیں کہ وہ میلاد خوانی زیارتِ قبور،فاتحہ،تسبیح و تہلیل اور عرس کرنے کو حرام کہتے ہیں،اور ایسے افعال کرنے والے کو بدعتی کہتے ہیں،اور انکی جماعت میں نماز نہیں پڑھتے۔یہ دونوں جماعتیں اس طرح فساد کرتی ہیں لیکن وہابی اور سنی کی کیفیت کیا ہے یہ معلوم نہیں(ت) |
الجواب:
|
دریں دیار منکراں میلاد خوانی و زیارتِ قبور و فاتحہ و تسبیح و تہلیل جزو ہابیہ نہ باشند وہمچناں منکران نفس عرس،اما عرسیکہ مشتمل بر رقص باشد خود نارواست نماز پس وہابیہ جائز نیست، درفتح قدر است روی محمد عن ابی حنیفۃ وابی یوسف رضی اﷲ تعالٰی عنہم ان الصلوۃ خلف اھل الاھواء لاتجوز۔[2] |
اس ملك میں میلاد خوانی،زیارتِ قبور،فاتحہ اور تسبیح و تہلیل کا منکر وہابیوں کے سوا کوئی نہیں،یونہی نفس عرس کا منکر بھی ان کے علاوہ کوئی نہیں،رہا قص پر مشتمل عرس تو وہ خود ناجائز ہے،وہابیوں کے پیچھے نماز جائز نہیں،فتح القدیر میں ہے:امام محمد نے امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے روایت کی کہ بے شك بدمذہبوں کے پیچھے نماز جائز نہیں۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع