30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تصدیق وعدہ الہیہ کے لیے جو ایك آن کے لیے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو طریان موت ہو کر معًا حیاتِ حقیقی ابدی روحانی جسمانی بخشی جاتی ہے،یہ حضور کے لیے نہ ہوئی بلکہ اس سے حضور کی برزخ میں حیاتِ ابدی اور فضائل اقدس میں ترقی دوامی مراد ہوگی بلاشبہہ اُس تصدیقِ وعدہ کے بعد سب انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے لیے ابدیت ذات حاصل ہے۔نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
الانبیاء احیاء فی قبورھم یصلون۔[1] |
انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نماز پڑھتے ہیں۔(ت) |
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:
|
ان اﷲ حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء فنبی اﷲ حی یرزق۔[2] |
بے شك اﷲ تعالٰی نے زمین پر حرام کردیا ہے کہ وہ نبیوں کے جسموں کو کھائے چنانچہ اﷲ تعالٰی کا نبی زندہ ہوتا ہے اس کو رزق دیا جاتا ہے۔(ت) |
باوصف قرب معنی صحیح مسلمان کے کلام کو معنی قبیح بلکہ کفر صریح پر حمل کرنا مسلمان کا کام نہیں۔واﷲ اعلم۔
مسئلہ ۵۴: ازرادھن پور گجرات قریب احمد آباد مرسلہ حکیم محمد میاں صاحب ۶ جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ
گیارھویں کے لیے آپ کیا فرماتے ہیں،گیارھویں کے روز فاتحہ دلانے سے ثواب زیادہ ہوتا ہے یا آڑے دن فاتحہ دلانے سے، بزرگوں کے دن کی یادگاری کے لیے دن مقرر کرنا کیسا ہے؟
الجواب:
محبوبان خدا کی یادگاری کے لیے دن مقرر کرنا بے شك جائز ہے۔حدیث میں ہے:
|
کان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یا تی قبور شہداء اُحد علی راس کل حول[3]۔ |
نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہر سال کے اختتام پر شہدائے احد کی قبروں پر تشریف لاتے تھے۔(ت) |
شاہ عبدالعزیز صاحب نے اسی حدیث کو اعراس اولیاء کرام کے لیے مستند مانا،اور شاہ ولی اﷲ صاحب نے کہا:
[1] شرح الصدور باب احوال الموتٰی فی قبورھم الخ خلافت اکیڈمی منگورہ سوات ص۷۸،مسند ابی یعلٰی حدیث ۳۴۱۲ مؤسسۃ علوم القرآن بیروت ۳/ ۳۷۹
[2] سنن ابن ماجہ ابواب ماجاء فی الجنائز باب ذکروفاتہ الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۱۹
[3] جامع البیان(تفسیر ابن جریر)تحت آیۃ ۱۳/ ۲۴ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۳/ ۱۷۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع