30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نام ہوا اس التزام کے ساتھ کہ مسئلہ مکان میں صرف اسی شخص کی سندًا گنائی ہوئی کتابوں کی عبارتیں پیش کروں گا،عدد ڈھائی سو ضرب تك پہنچا اور اس کی مستند کتابوں میں بھی تفسیر ابن کثیر موجود نہ تھی ورنہ ممکن تھا کہ عدد اور بڑھتا،یونہی کتاب العلو مضطرب منہافت اور اس کے علاوہ پاس بھی نہ تھی اور اگر قلم کو اس مخالف کی اس قدر جائے تنگ میں محصور نہ کیا جاتا تو ضربوں کی کثرت لطف دکھاتی،پھر بھی اُن معدود سطور پر ڈھائی سو کیا کم ہیں۔وباﷲ التوفیق،واﷲ سبحنہ وتعالٰی الہادی الی سواء الطریق وصلی اﷲ تعالٰی علی النبی الکریم محمد واٰلہ وبارك وسلم امین۔
مسئلہ ۵۲:از شہر مدرسہ اہلسنت و جماعت منظر اسلام مسئولہ مولوی اکبر حسن خان رامپوری طالب علم مدرسہ مذکور ۱۶ جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ
کمترین خدمت خدامان حضرت میں عارض ہے انگریزوں کے یہاں بدلائل عقلیہ ثابت ہے کہ آسمان کوئی چیز نہیں اور یہ جو نیلگوں شے محسوس ہوتی ہے وہ فضا ہے،اور اختلافِ لیل و نہار سب حرکت ارض ہے۔اور نہ ستاروں کی حرکت ہے،ہر ستارہ کی کشش دوسرے کو روکے ہوئے ہے جس طرح مقناطیس امید کہ کوئی قوی دلیل عقلی و نقلی وجودِ آشمان پر افادہ فرمائی جائے۔
الجواب :
وجود آسمان پر آسمانی کتابوں سے زیادہ کیا دلیل درکار ہے تمام آسمانی کتابیں اثبات وجودِ آسمان سے مالا مال ہیں،قرآن عظیم میں تو صدہا آیتیں ہیں جن میں آسمان کا ابتداء میں دھواں ہونا بستہ چیز پھر رب العزت کا اسے جدا جدا کرنا پھیلانا،سات پر بنانا،اس کا چھت ہونا اس کا نہایت مضبوط بنائے مستحکم ہونا،اس کا بے ستون قائم ہونا،اﷲ تعالٰی کا اسے اور زمین کو چھ دن میں بنانا،روز قیامت اس کا شق ہونا،اٹھا کر زمین کے ساتھ ایك بار ٹکرا دیا جانا،پھر اس کا اور زمین کا دوبارہ پیدا ہونا وغیرہ وغیرہ صاف روشن ارشاد ہیں کہ ان کا انکار نہیں کرسکتا مگر وہ جو اﷲ ہی کا منکر ہے،نیز قرآن عظیم میں جا بجا یہ بھی تصریح ہے کہ جو ہم کو نظر آرہا ہے یہی آسمان ہے تو اس میں گمراہ فلسفیوں کا رد ہے جو آسمانوں کا وجود تو مانتے ہیں مگر کہتے ہیں کہ وہ نظر نہیں آسکتے یہ جو ہمیں دکھائی دیتا ہے کہ کرہ بخار ہے۔ان نصرانیوں اور ان یونانیوں سب بطلانیوں کے رد میں ایك آیہ کریمہ کافی ہے کہ:
|
" اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ ؕ وَ ہُوَ اللَّطِیۡفُ |
کیا وہ نہ جانے جس نے بنایا اور وہی ہے پاك |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع