30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اگر گویند کہ علمائے حنفیہ برجواز اشارت نیز فتوٰی دادہ اندگویم ترجیح عدمِ جواز راست اھ ملتقطًا۔[1] |
اگر کہا جائے کہ حنفی علماء نے اشارہ کے جواز پر فتوے دیا ہے تو میں کہوں گا کہ ترجیح عدمِ جواز کو ہے اھ ملتقطًا(ت) |
اب مبتدعی کہ خبریں کہیے اور تقریر سابق بھی یاد رکھیے کہ ان کی شان میں کوئی کلمہ کہا اور ساتھ لگے شاہ ولی اﷲ شاہ عبدالعزیز صاحب بھی گئے اور بلا پس ہو تینوں کو جانے دو وہ سب میں چہیتے اسمعیل جوگئے اور ان کے صدقے گیہوں کے گھن،اور تمہارے سب طائفے والے جہنمِ بدعت و ضلالت کے قعر میں پہنچے،افسوس کہ اس نامرد ہاتھی نے اپنی ہی فوج کا زیاں کیا اس کچی پیندی نے اپنے سفرہ و دستار خوان کا نقصان کیا،اسمعیل اور سارے طائفہ مردود و ذلیل کو بدعتی گمراہ جہنمی مان لیا ان کے پیچھے نماز پڑھنے کو جائز کردیا ؎
شآدم کہ از رقیباں دامن کشاں گز شتی گو جائے ذکر ماہم آں تنگ دل ندارد
مجھے خوشی ہے کہ تم رقیبوں سے دامن بچا کر گزر گئے،اگرچہ ہمارے ذکرپر بھی وہ تنگ دل نہیں ہوتے۔ت)
|
نعوذ باﷲ من ھفواتہ وھمزات اسمعیل وہناتہ رب انی اعوذبك من ھمزات الشیطین،واعوذبك ان یحضرون o واخردعونا ان الحمد ﷲ رب العلمین و الصلوۃ والسلام علٰی سید المرسلین سیدنا محمد واٰ لہ واصحابہ اجمعین امین! |
ہم اﷲ تعالٰی کی پناہ چاہتے ہیں اس کے لغویات اور اسمعیل کی وسوسہ انگیزیوں اور باعثِ شرم باتوں سے۔اے میرے رب میں تیری پناہ چاہتاہوں شیطان کی وسوسہ انگیزیوں سے،اور تیری پناہ چاہتا ہوں شیطانوں کی حاضری سے،اور ہماری آخری بات یہ ہے تمام حمدیں اﷲ تعالٰی رب العالمین کے لیے ہیں،اور صلوۃ وسلام ہو،رسولوں کے سردار ہمارے آقا محمد اور انکی آل و اصحاب سب پر،آمین(ت) |
الحمد ﷲ کہ یہ مختصر اجمالی جواب پانزدہم شہر النور و السرور ماہِ مبارك ربیع الاول ۱۳۱۸ھ ہجریہ قدسیہ علٰی صاحبہا الصلوۃ و التحیہ کو باوصف کثرتِ کار وہجوم اشغال تعلیم و تدریس و مجالس مبارکہ میلاد سراپا تقدیس وقت فرصت کے قلیل جلسوں میں تمام اور بلحاظ تاریخ قوارع القہار علی المجسمۃ الفجار ۱۳۱۸ھ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع