30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الاسألوااذلم یعلموا فانما شفاء العی السؤال[1]۔ |
انہوں نے خود نہ جاننے پر پوچھا کیوں نہیں کیوں کہ عاجز کا علاج پوچھنا ہے۔(ت) |
ہاں تمہارے طائفہ گمراہ کی غیر مقلدی بہت نوپیدا حدث ہے کہ ابن عبدالوہاب نجدی نے بارھویں صدی میں نکالی،دیکھو سردار علمائے مکہ معظمہ شیخ العلما حضرت سیدنا احمد زین قدس سرہ کا رسالہ الدررالسنیہ فی الردعلی الوھابیہ۔
ضرب ۲۴۰:ہم اہلسنت کو ان گمراہوں سے نزاع اوّلًا تقلید کو شرك بتانے،ثانیًا اس کے حرام ٹھہرانے،ثالثًا بے لیاقت اجتہاد اس کا ترك جائز بتانے میں ہے،یہ چالاك عیار تینوں کو چھوڑ کر تقلید شخصی میں الجھنے لگتے ہیں،یہ ان مکاروں کا قدیم طریقہ جان بچانے کا ہے،یہ نئی پرواز کے پٹھے بھی یہی چال چلے پھر بھی چوتھی صدی جھوٹ بنالی،ان کے شیخ مقتول اسمعیل مخذول کے دادا اور دادا استاد اور پردادا پیر شاہ ولی اﷲ صاحب رسالہ انصاف میں انصاف کر گئے کہ:
|
بعد المائتین ظہر بینھم التمذھب للمجتہدین باعیانھم وقل من کان لایعتمد علی مذھب مجتہد بعینہ و کان ھذا ھوالو اجب فی ذٰلك الزمان[2]۔ |
یعنی دو صدی کے بعد خاص ایك مجتہد کے مذہب کا پابند بننا اہل اسلام میں ظاہر ہوا کہ کم ہی کوئی شخص تھا جو ایك امام معین پر اعتماد نہ کرتا ہو اور یہی واجب تھا اس زمانے میں۔ |
قولہ:اور جوبات امورِ دین میں بعد قرونِ ثلثٰہ کے ایجاد ہوئی بالاتفاق بدعت ہے وکل بدعۃ ضلالۃ۔
ضرب ۲۴۱:جیسی تمہاری غیر مقلدی کہ تین چھوڑ بارھویں قرن میں قرن الشیطان کے پیٹ سے نکلی،
ضرب ۲۴۲:شیر کے بن میں ڈکرا نے والا بیل اپنی موت اپنے منہ مانگتا ہے،اﷲ تعالٰی کے لیے مکان ثابت کرنا بتا تو دے کہ قرون ثلثہ میں کس نے مانا،تو تیرا قول بدتر از بول تیرے ہی منہ سے بدعت و ضلالت و فی النار اور تو بدعتی گمراہ مستحق نار ہے۔
ضرب ۲۴۳:اﷲ عزوجل کے احاطہ ذاتیہ کا انکار قرون ثٰلثہ میں کس نے کیا،یہ بھی تیری بدعت و
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع