30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ترك قراء ت میکردوایں ترك رااز قبیل ریاضت مجاہدہ می شمرد،آخر الامرسبحانہ تعالٰی بہ برکت رعایت مذہب کہ نقل از مذہب الحادست،حقیقتِ مذہب حنفی در ترك قراء ت ماموم ظاہر ساخت و قراء ت حکمی ازقراء ت حقیقی در نظر بصیرت زیبا تر نمود۔[1] |
اقتداء میں قراء ت نہ کی،اس ترك قراء ت کو تکلف محسوس کرتا رہا،بالاخر مذہب کی رعایت کی برکت سے مقتدی کے لیے ترك قراء ت کی حقیقت ظاہر ہوگئی جب کہ اپنے مذہب سے دوسرے مذہب میں منتقل ہونا الحاد ہے،چنانچہ حقیقی قرء ات سے حکمی قراءت نظرِ بصیرت میں خوب تر معلوم ہوئی۔(ت) |
یہاں حضرت ممدوح غیر مقلدوں کو صاف صاف ملحد فرمارہے ہیں،آپ کے نزدیك یہ فرمانا مطابق ثبوت شرعی ہے جب تو آپ اور آپ کے سارے طائفے کو الحاد و بے دینی کا خلعت مبارک،پھر آپ فاسق و مبتدع کہنے پر کیوں بگڑیں۔،ہاں شاید یوں بگڑے ہو کہ مرتبہ گھٹا دیا ملحد زندیق سے نرا فاسق مبتدع رکھا،اور اگر یہ فرمانا بے ثبوت شرعی ہے تو آپ کے طور پر حضرت شیخ مجدد معاذ اﷲ ملحد قرار پائیں گے جلد بتاؤ کہ دونوں شقوں سے کون سی شق تمہیں پسند ہے،ہنوز بس نہیں،جب جناب شیخ ایسے ٹھہریں گے تو شاہ ولی اﷲ و شاہ عبدالعزیز صاحب کہاں بچیں گے کہ یہ ان کے مرید ان کے معتقدہیں انہیں اکابر اولیاء سے جانتے ہیں اور جو کسی ملحد کو مسلم کہے خود ملحد ہے نہ کہ امامِ اسلام وولی والا مقام کہنے والا،اور ابھی انتہا کہاں،جب یہ سب حضرات ایسے ہوئے تو وہابیہ مخذولین کا شیخ مقتول اسمعیل مخذول علیہ ماعلیہ کدھر بھاگے گا،یہ تینوں کا مداح تینوں کا غلام تینوں کو ولی کہے تینوں کو امام،تو یہ خود ملحددر ملحد ملحدوں کا ملحد ہوا،اور اب تم کہاں جاتے ہو تم اس ایك کے ویسے ہی ہو جیسا وہ اُن تین کا تو دیگ الحاد کی پچھلی کھرچن الحادی بوتل کی نیچے کی تلچھٹ تم ہوئے اب کہو کون سی شق پسند رہی،ہر شق پر الحاد کی آفت تمہارے ہی ماتھے گئی۔
قولہ:ائمہ دین و مسلمانان قرونِ ثلثہ سب غیر مقلد تھے۔
اقول:ضرب ۲۳۶:محض جھوٹ ہے،تابعین و تبع تابعین میں تو لکھو کھا مقلدین تھے ہی،صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم میں بھی ہزاروں حضرات خصوصًا اعراب و اکثر طلقاء مقلد تھے۔قرونِ ثلثہ کے کروڑوں مسلمانوں میں ہر شخص کو مجتہد جاننا آپ ہی جیسے فاضل اجہل کا کام ہے ایمان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع