30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بعضہا اصح من بعض۔[1] |
درست ہوگی اور ان میں بعض سے بعض اصح ہوں گی۔ت |
اب اپنی جہالت کبرٰی دیکھ کہ ائمہ کرام تو اسود کو مقبول اور ان کی حدیث کو صالح فرمائیں اور تجھ جیسا بے تمیز بے ادراك پایہ اعتبار سے ساقط بتائے۔
ضرب ۲۲۶:بالفرض اگر آپ کی جہالت مان بھی لیں اور بفرضِ غلط یہ بھی تسلیم کرلیں کہ مجہول الحال بالاتفاق نامقبول،پھر بھی بالاتفاق پایہ اعتبار سے ساقط بتانا مردود و مخذول،محدث مسکین ابھی احتجاج و اعتبار ہی کا فرق نہیں جانتے اور چلے حدیثوں پر جرح کرنے،محدث صاحب ! مجہول اگر ساقط ہے تو پایہ احتجاج سے نہ کہ پایہ اعتبار سے،دیکھو رسالہ الہادِ الکاف،اور یہاں پایہ اعتبار تك ہونا کافی ووافی ہے بلا خلاف۔
ضرب ۲۲۷:یہ سب کام اس تسلیم پر ہے کہ اسود مذکور فی المیزان ہوں مگر حاشا اس کا تمہارے پاس کیا ثبوت،بلکہ دلیل اس کے خلاف کی طرف ناظر کہ اُ ن اسود کے باپ صحابی نہیں مجہول ہیں کما نص علیہ الحافظ(جیسا کہ حافظ نے اس پر نص کی ہے۔ ت)اور اس اسود کے باپ صحابی کما ذکر فی نفس الحدیث صلیت مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الفجر (جیسا کہ اسی حدیث میں ذکر ہے کہ میں نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی(ت)
قولہ:اور ابن السنی کے عمل الیوم واللیلہ کی حدیث جو بروایت انس فتوی مذکور میں منقول ہے۔موضوع ہے کیونکہ اس میں عیسٰی راوی کذاب ہے،یہ دونوں حدیثیں میزان الاعتدال کے اخیر میں موجود ہیں۔
اقول ضرب ۲۲۸:عیسٰی تو کذاب نہیں مگر تم ضرور کذاب ہو اس کی سند میں عیسی کوئی راوی ہی نہیں ؎
ولے از مفتری نتواں برآمد کہ اواز خود سخن می آفریند
(افترا پر داز سے چھٹکارا نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ خود بات بنالیتا ہے)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع