30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ضرب ۲۱۸:کسی صحیح حدیث قولی و فعلی و تقریری سے فرضوں کے بعد دُعا کے لیے ہاتھ اٹھانے کی ممانعت ثابت نہیں۔پھر تم لوگ کس منہ سے منع کرتے ہو،کیا منع کی شریعت تمہارے اپنے گھر کی ہے یا جواز کے لیے حاجت دلیل ہے ممانعت دلیل سے مستغنی ہے۔
ضرب ۲۱۹:اگرصحیح سے مقابل حسن مراد تو ہر گز حجت اس میں منحصر نہیں،صحیح لذاتہ و صحیح لغیرہ و حسن لذاتہ وحسن لغیرہ سب حجت اور خود مثبت احکام ہیں،اور اگر حسن کو بھی شامل تو انکار صرف بنظر خصوص محل ہے،یابمعنی عدم ثبوت مطلق ثانی قطعًا باطل،بکثرت صحیح و معتمد احادیث قولی وفعلی و تقریری سے نماز کے بعد دعا مانگنا نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ثابت۔یونہی ہاتھ اٹھا نا دعا کے آداب سے ہونا بکثرت احادیث صحیحہ و معتبرہ قولی و فعلی و تقریری سے ثابت،یہ سب حدیثیں صحاح و مشکوۃ و اذکار و حصن حصین وغیرہا میں مروی و مذکور،اور بعد ثبوت اطلاق بے اثبات تخصیص ممانعت خاص قاعدہ علم سے دور و مہجور۔
ضرب ۲۲۰:مقام مقامِ فضائل ہے اور اس میں ضعاف بالاجماع مقبول،دیکھو حضرت عالم اہلسنت مدظلہ العالی کا رسالہ الہادالکاف فی حکم الضعاف تو مطالبہ صحت سراسر جہل و اعتساف۔
اقول:مصنف ابن ابی شیبہ کی حدیث جو بطریق اسود عامری بعض اہل بریلی کے فتوے میں منقول ہے۔وہ باتفاق محدثین ضعیف و پایہ اعتبار سے ساقط ہے کیونکہ اسود عامری مجہول العین و الحال ہے۔
اقول:ضرب ۲۲۱:ادعائے اتفاق محض کذب وا ختلاق،مجہول العین بہت ائمہ محققین کے نزدیك مقبول ہے اور مجہول الحال میں بھی بعض اکابر کا مذہب قبول ہے،امام نووی مقدمہ منہاج میں فرماتے ہیں:
|
المجہول اقسام مجہول العدالۃ ظاھرا وباطنا و مجہولہا باطنا مع وجود ھا ظاھرا وھوالمستور و المجہول العین فاما الاول فالجمہور علٰی انہ لایحتج بہ و اما الاخران فاحتج بہما کثیرون من المحققین[1]۔ |
مجہول کی کئی اقسام ہیں،مجہول العدالۃ ظاہرًا وباطنًا،مجہول العدالۃ باطنًا مع وجود العدالۃ ظاہرًا،یہ مستور ہے اور مجہول العین، صرف پہلی قسم کو جمہور دلیل نہیں بناتے لیکن آخری دو قسموں کو محققین میں سے کثیر نے دلیل بنایا ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع