30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جنت بیت کے لیے کعبے کی کیا خصوصیت رہے گی۔لاجرم شق سوم ہی حق ہے اور آیاتِ استوا سے لے کر یہاں تك کوئی آیت و حدیث ان محال و بے ہودہ معنی پر محمول نہیں جو ناقص افہام میں ظاہر الفاظ سے مفہوم ہوتے ہیں بلکہ تفہیم عوام کے لیے اُن کے پاکیزہ معانی ہیں،اﷲ عزوجل کے جلال کے لائق جنہیں ائمہ کرام اور خصوصًا امام بیہقی نے کتاب الاسماء میں مشرحًا بیان فرمایا اور ان کی حقیقی مراد کا علم اﷲ عزوجل کو سپرد ہے۔
|
امنّا بہ کل من عند ربنا وما یذکر الااولو الالباب o والحمد اﷲ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین محمد واٰلہ و صحبہ اجمعین امین ! |
ہم اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کے پاس سے ہے،اور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے،اور تمام تعریفیں اﷲ رب العالمین کے لیے ہیں۔اور درود و سلام نازل ہو سید المرسلین محمد مصطفی پر اور آپ کی آل پر اور آپ کے تمام صحابہ پر۔آمین(ت) |
ساتواں تپانچہ
الحمدُ ﷲ مسئلہ عرش ورَدِّ مکان سے فراغ پایا کہ یہی رسالے کا موضوع اصلی تھا اب تحریر وہابیت تخمیر کے دو۲ حرف اخیر دو مسئلہ دیگر کے متعلق باقی ہیں اُن کی نسبت بھی سرسری دو چار ہاتھ لیجئے کہ شکایت نہ رہے۔
قولہ مسئلہ: فرضوں کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا۔
الجواب:
کسی صحیح حدیث قولی وفعلی وتقریری سے فرضوں کے بعد دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا ثابت نہیں۔
اقول:ضرب ۲۱۶:کسی صحیح حدیث قولی و فعلی و تقریری سے اﷲ تعالٰی کا عرش کے سوا اور کہیں نہ ہونا ثابت نہیں دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا بے حدیث صحیح بدعت مگر خدا پر حکم لگادینے کو صرف تیرے زبان ادعا کی حاجت ع
نجدی بے شرم شرم ہم بدار
(بے شرم نجدی! کچھ شرم کر)
ضرب ۲۱۷:کسی صحیح حدیث قولی وفعلی و تقریری سے عرش کا امکانِ الہٰی ہونا ثابت نہیں،اپنے رب کے حضور التجا کے لیے ہاتھ پھیلانے کو حدیثِ صحیح کی ضرورت،مگر اﷲ عزوجل کو گالی دینے اس کی مخلوقات سے مشابہ بنادینے کو فقط تیری بدلگام زبان حجت ع
مکن خود رامکان درقعرِ نار
(اپنا مکان مت بنا آگ کی گہرائی میں۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع