30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اتباعِ حق کی توفیق دے اور مخالفتِ اہلسنت سے ہر قول و فعل میں محفوظ رکھے،آمین۔
چھٹا تپانچہ
اقول:طرفہ تماشا ہے جب اس گمراہ نے سب مصائب اپنے سر پر اوڑھ لیے اپنے معبود کو مکانی کہہ دیا،جسم مان لیا،عرش پر متمکن ٹھہر اکر جہت میں جان لیا،پھر یہ کیا خبط سوجھا کہ اور کہیں نہیں کہہ کر طرح طرح اپنے ہی لکھے سے تناقض کیا۔
ضرب ۱۸۳:سچا ہے تو قرآن و حدیث سے ثبوت دے کہ اﷲ تعالٰی عرش پر تو ہے اور عرش کے سوا کہیں نہیں،یہ اور کہیں نہیں،کون سی آیت حدیث میں ہے ؟ " اَمْ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللہِ مَا لَا تَعْلَمُوۡنَ﴿۸۰﴾ "[1]۔یا یہود کی طرح بے جانے بوجھے دل سے گھڑ کر خدا پر حکم لگادیتے ہو۔
ضرب ۱۸۴:جب تُو اس سبوح و قدوس جل جلالہ کو مکان سے پاك نہیں مانتا تو اب کوئی وجہ نہیں کہ اور آیات و احادیث جن کے ظاہر الفاظ سے اور جگہ ہونا مفہوم ہو اپنے ظاہر سے پھیری جائیں۔تیرے طور پر اُن سب کو معنی لغوی حقیقی ظاہر متبادر پر عمل کرنا واجب ہوگا،اب دیکھ کہ تو نے کتنی آیات و احادیث کا انکار کردیا اور کتنی بار اپنے اس لکھے سے کہ جو شرع میں وارد ہے اس سے سکوت نہ ہوگا،صاف تناقض کیا سب میں پہلے تو یہی حدیثِ صحیح بخاری وھو مکانہ[2]۔ہے جس میں تُو نے بزورِ زبان ضمیر حضرت عزت جل شانہ کی طرف ٹھہرادی اور پھر مکانہ سے محض زبردستی عرش مراد لے لیا حالانکہ وہاں سدرۃ المنتہٰی کا ذکر ہے تو عرش ہی پر ہونا غلط ہوا کبھی سدرہ پر بھی ٹھہرا ہے۔
ضرب ۱۸۵:صحیح بخاری حدیثِ شفاعت میں انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے:
|
فاستاذن علی ربی فی دارہ فیؤذن لی علیہ[3]۔ |
میں اپنے رب پر اذن طلب کروں گا اس کی حویلی میں تو مجھے اس کے پاس حاضر ہونے کا اذن ملے گا۔ |
ظاہر ہے کہ تخت کو حویلی نہیں کہتے،نہ عرش کسی مکان میں ہے،بلکہ وہ بالائے جملہ اجسام ہے،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع