30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ضرب ۱۱۹:اُسی میں ہے:
|
ان اﷲ تعالٰی لامکان لہ ولا مرکب و ان الحرکۃ و السکون والانتقال والا ستقرار من صفات الاجسام واﷲ تعالٰی احد صمد لیس کمثلہ شیئ[1]۔ اھ باختصار |
بے شك اﷲ تعالٰی کے لیے نہ مکان ہے نہ کوئی چیز ایسی جس پر سوار ہو اور بے شك حرکت اور سکون اور ہٹنا اور ٹھہرنا یہ جسم کی صفتیں ہیں اور اﷲ تعالٰی احد صمد ہے کوئی چیز اس سے مشابہت نہیں رکھتی ا ھ باختصار۔ |
ضرب ۱۲۰:مدارك شریف میں فرمایا:
|
تفسیرالعرش بالسریرو والاستواء بالاستقرار کما تقولہ المشبہۃ باطل[2]۔ |
عرش کے معنی تخت اور استواء کے معنی ٹھہرنا کہنا جس طرح فرقہ مجسمہ کہتا ہے باطل ہے۔ |
دیکھا تو نے حق کیسا واضح ہوا،وﷲ الحمد۔
پانچواں تپانچہ
اقول:یہ تو اوپر واضح ہو لیا کہ یہ مدعی خود ہی دعوے پر نہ جما اور جن صفات سے کلامِ شارع ساکت نہیں ان سے سکوت درکنار، ان کا صاف انکار کر گیا مگر یہاں یہ کہنا ہے کہ اس مدعی بے باك کے نزدیك تسلیم وعدم سکوت کا وہ مطلب ہر گز نہیں جو اہلسنت کے نزدیك ہے یعنی کچھ معنی نہ کہنا صرف اجمالًا اتنی بات پر ایمان لے آنا کہ جو کچھ مراد الٰہی ہے حق ہے یا تاویل کرکے صاف و پاك معنی کی طرف ڈھال دنیا جن میں مشابہت مخلوق و جسمیت و مکان وجہت کی بو اصلًا نہ پیدا ہو۔اس مسلك پر ایمان لاتا تو استواء کے معنی بیٹھنا،چڑھنا،ٹھہرنا نہ بتاتا ان کے علاوہ اور معانی کو کہ ائمہ اہلسنت نے ذکر فرمائے بدعت و ضلالت نہ بتاتا لاجرم اس کا مسلك وہی مسلك مجسمہ ہے کہ جو کچھ وارد ہوا وہ اپنے حقیقی لغوی معنی مفہوم و متبادر پر محمول ٹھہرا کر مانا جائے گا۔ شروع سے اب تك جولکھا گیا وہ اسی ضلالت ملعونہ کے رَد میں تھا اتنا اور اس کے کان میں ڈال دوں شاید خدا سمجھ دے اور ہدایت کرے کہ اے بے خرد ! یہ ناپاك مسلك جو استوا میں خصوصًا اور باقی متشابہات میں مطلقًا تیرا ہے۔(کھلی گمراہی کا نجس رستہ ہے)اس طریقہ پر تیرا معبود جسے تو اپنے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع