30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کل ما حدثك کذب،واخبرنا المالینی(بسندہ)عن الکلبی قال قال لی ابو صالح انظر کل شیئ رویت عنی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما فلا تروہ،اخبرنا ابو سہل احمد بن محمد المزکی ثنا ابوالحسین محمد بن حامد العطار اخبرنی ابو عبد اﷲ الرواسانی قال سمعت محمد بن اسمعیل البخاری یقول محمد بن مروان الکوفی صاحب الکلبی سکتواعنہ لایکتب حدیثہ البتّۃ اھ مختصرًا[1]۔ |
مجھ سے ابوصالح نے کہا دیکھو جو کچھ تو نے میرے واسطے سے حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا ہے اس میں سے کچھ روایت نہ کرنا،امام بخاری فرماتے ہیں کلبی کے شاگرد محمد بن مروان کوفی سے ائمہ حدیث نے سکوت کیا ہے،یعنی اس کی روایات متروك کردیں اس کی حدیث کا ہر گز اعتبار نہ کیا جائے۔ |
ضرب ۱۱۸:پھر فرمایا:
|
وکیف یجوزان یکون مثل ھٰذہ الاقاویل صحیحۃ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما ثم لایرویھا ولایعرفہا احد من اصحابہ الثقات الاثبات مع شدۃ الحاجۃ الی معرفتہا،وما تفردبہ الکلبی وامثالہ یوجب الحد والحد یوجب الحدث لحاجۃ الحد الٰی حادخصہ بہ والباری تعالٰی قدیم لم یزل۔[2] |
بھلا کیونکر ہوسکتا ہے کہ ایسی باتیں ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے صحیح ہوں پھر ان کے ثقہ شاگرد محکم فہم و حفظ والے نہ اُنہیں روایت کریں نہ ان سے آگاہ ہوں حالانکہ ان کے جاننے کی کیسی ضرورت ہے اور جو کچھ کلبی اور اس کی حالت کے اور لوگ تنہا روایت کررہے ہیں اس سے تو اﷲ عزوجل کا محدود ہونا لازم آتا ہے اور محدود ہونا حادث ہونے کو واجب کرتا ہے کہ حد کے لیے کوئی ایسا درکار ہے جو خاص اس حد معین سے اس محدود کو مخصوص کرے اور اﷲ عزوجل تو قدیم ہے ہمیشہ سے ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع