30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بالائے طاق رکھ دیا مگر اہل حق بحمد اﷲ تعالٰی خوب جانتے ہیں کہ شاہراہ ہدایت اتباع جمہور ہے جس سے سہوًا خطا ہوئی اگرچہ معذور ہے مگر اس کا وہ قول متروك و مہجور ہے،وہ جانتے ہیں کہ لکل جواد کبوۃ لکل صارم نبوۃ و لکل عالم ھفوۃ ہر تیز گھوڑا کبھی ٹھوکر کھا لیتا ہے اور ہر تیغ براں کبھی کر جاتی ہے اور ہر عالم سے کبھی کوئی لغزش وقوع پاتی ہے۔وباﷲ العصمۃ۔
ضرب ۱۱۳:اب اپنے مستندات سے ان معانی کا رَد سُنتے جائیے جنہیں آپ نے براہ جہالت مطابق سنت بلکہ سنت کو انہیں میں منحصر بتایا۔مدارك شریف سے گزرا:
|
الاستواء بمعنی الجلوس لایجوز علی اﷲ تعالٰی [1]۔ |
استواء بیٹھنے کے معنی پر اﷲ تعالٰی عزوجل کے حق میں محال ہے۔ |
ضرب ۱۱۴:کتاب الاسماء سے گزرا:
|
متعال عن ان یجوز علیہ اتخاذ السریر للجلوس [2]۔ |
اﷲ تعالٰی عزوجل اس سے پاك و برتر ہے کہ بیٹھنے کے لیے تخت بنائے۔ |
ضرب ۱۱۵:اسی میں امام ابوالحسن طبری وغیرہ ائمہ متکلمین سے گزرا ا ستواء کے یہ معنی نہیں کہ مولٰی تعالٰی عرش پر بیٹھا یا کھڑا ہے،یہ جسم کی صفات ہیں اور اﷲ عزوجل ان سے پاک۔
ضرب ۱۱۶:اُسی میں فرا نحوی سے یہ حکایت کرکے کہ استواء بمعنی اقبال ہے،اور ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما نے چڑھنے سے تفسیر کی،فرمایا:
|
استوی بمعنی اقبل صحیح لان الا قبال ھو القصد و القصد ھو الارادۃ وذٰلك جائز فی صفات اﷲ تعالٰی، اما ماحکی عن ابن عباس |
یعنی استوا بمعنی اقبال صحیح کہ اقبال قصد ہے اور قصد ارادہ ہے،یہ تو اﷲ سبحنہ کی صفات میں جائز ہے،مگر وہ جو ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما سے حکایت کی کہ استواء چڑھنے عــــــہ کے معنی |
عــــــہ:امام جلال الدین سیوطی نے اتقان میں فرمایا:رد بانہ تعالٰی منزہ عن الصعود ایضًا[3]۔یہ معنی یوں مردود ہوئے کہ اﷲ تعالٰی چڑھنے سے پا ك ہے ۱۲ منہ،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع