30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اوّل:تفویض کہ کچھ معنی نہ کہے جائیں،اس طریق پر اصلًا عــــــہ ترجمے کی اجازت ہی نہیں کہ جب معنی ہم
عــــــہ:فائدہ جلیلہ:امام حجۃ الاسلام محمد محمد محمد غزالی قدس سرہ العالی کتاب الجام العوام میں فرماتے ہیں:
|
یجب علی من سمع اٰیات الصفات واحادیثہا من العوام و النحوی و المحدث والمفسروالفقیہ ان ینزہ اﷲ سبحنہ من الجسمیۃ وتوابعہا من الصورۃ والمکان والجہۃ فیقطع بان معنا ہ التحقیق اللغوی غیرمر اد لانہ فی حق اﷲ تعالٰی محال وان لہذا معنی یلیق بجلالہ تعالٰی وان لا یتصرف فی الالفاظ الواردۃ لابالتفسیر ای تبدیل اللفظ بلفظ آخر عربی اوغیرہ لان جواز التبدیل فرع معرفۃ المعنی المراد ولا بالاشتقاق من الوارد کان یقول مستوٍ اخذا من استوی ولا بالقیاس کان یطلق لفظۃ الساعد والکف قیاسا علی ورودالید وان یکف باطنہ عن التفکر فی ھذہ الامور فان حدثتہ نفسہ بذلك تشاغل بالصلوۃ و الذکروقراء ۃ القرآن فان لم یقدر علی الدوام علی ذلك تشاغل بشیئ من العلوم فان لم یمکنہ فبحرفۃ او صناعۃ فان لم یقدرفبلعب ولہوفان ذلك خیر من الخوض فی ھذا البحر |
یعنی جو شخص عامی یا نحوی یا محدث یا مفسر یا فقیہ اس قسم کی آیات و احادیث سنے اس پر فرض ہے کہ جسمیت اور اس کے توابع مثل صورت و مکان و جہت سے اﷲ تعالٰی کی تنزیہ کرے۔یقین جانے کہ ان کے حقیقی لغوی معنی مراد نہیں کہ وہ اﷲ تعالٰی کے حق میں محال ہیں اور جانے کہ ان کے کچھ معنی ہیں جو اﷲ سبحنہ کے جلال کے لائق ہیں اور جو لفظ وارد ہوئے ان میں اصلًا تصرف نہ کرے، نہ کسی دوسرے لفظ عرب سے بدلے،نہ کسی اور زبان میں ترجمہ کرے کہ تبدیل و ترجمہ تو جب جائز ہو کہ پہلے معنی مراد ہولیں،نہ لفظ وارد سے کوئی مشتق نکال کر اطلاع کرے جیسے استوٰی آیا ہے مستوی نہ کہے نہ لفظ وارد پر قیاس کرے ید آیا ہے اس کے قیاس سے ساعد و کف نہ بولے اور فرض ہے کہ اپنے دل کو بھی اس میں فکر سے روکے اگر دل میں اس کا خطرہ آئے تو فورًا نماز و ذکر و تلاوت میں مشغول ہوجائے،اگر ان عبادات پر دوام نہ ہوسکے تو کسی علم میں مشغول ہو کر دھیان بٹادے۔یہ بھی نہ ہوسکے تو کسی حرفت یا صنعت میں یہ بھی نہ جانے تو کھیل کود میں کہ متشابہات میں فکر کرنے سے کھیل کود ہی بھلا ہے بلکہ اگر گناہوں میں مشغول ہو تو اس (باقی اگلے صفحہ پر) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع