30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الاصل فی ھذا وما اشبہہ فی اثبات الصفات،انہ لا یجوز ذلك الاان یکون بکتاب ناطق اوخبر مقطوع بصحتہ فان لم یکونا فیما یثبت من اخبار الاحادیث المستندۃ الٰی اصل فی الکتاب اوفی السنۃ المقطوع بصحتہا او بموافقۃ معانیہا و ماکان بخلاف ذٰلك فالتوقف عن اطلاق الاسم بہ ھوالواجب ویتأول حینئذعلی مایلیق بمعانی الاصول المتفق علیہا من اقاویل اھل الدین والعلم مع نفی التشبیہ فیہ،ھذا ھوالاصل الذی یبنی علیہ الکلام والمعتمدۃ فی ھذا الباب۔[1] |
اس میں اور اس قسم کی صفات کے اثبات میں قاعدہ یہ ہے کہ یہ اثبات صرف کتاب اﷲ یا قطعی حدیث سے ہو،اگر ان دونوں سے نہ ہو پھر اس کا ثبوت ان احادیث سے ہو جو کتاب اﷲ اور قطعی صحیح حدیث سے مستند کسی ضابطہ کے مطابق اور ان کے معانی کے موافق ہو،اور جوان کے مخالف ہو تو پھر اس صفت کے اسم کے اطلاق پر ہی اکتفا کیا جانا ضروری ہوگا اور اس کی مراد کے لیے ایسی تاویل کی جائے گی جو اہلِ دین اور اہل علم کے متفقہ اقوال کے معانی کے موافق ہو،اور ضروری ہے کہ اس صفات میں کوئی تشبیہ کا پہلو نہ ہو،یہی وہ قاعدہ ہے جس پر کلام کو مبنی کیا جائے اور اس باب میں یہی قابل اعتماد قاعدہ ہے۔(ت) |
ضرب ۱۰۶:اقول:تیری سب جہالتوں سے قطع نظر کی جائے تو ذرا اپنے دعوے کو سوجھ کہ احادیث صریحہ صحیحہ سے عرش کا مکانِ الٰہی ہونا ثابت ہے،صریح ہونا بالائے طاق ان احادیث سے اگر بفرض باطل ثابت ہوگا تو یہ تیرے معبود کے لیے تیرے زعم میں مکان ہے اس سے یہ کیونکر نکلا کہ وہ مکان عرش ہی ہے،خود اپنا دعوٰی سمجھنے کی لیاقت نہیں اور چلے صفاتِ الہیہ میں کلام کرنے۔
ضرب ۱۰۷:اقول:بلکہ حدیث اول میں تو سدرۃ المنتہٰی کا ذکر ہے کہ:
|
ثم علابہ فوق ذٰلك بمالایعلمہ الا اﷲ حتی جاء سدرۃ المنتہٰی ودنا الجبار رب العزۃ فتدلی حتی کان منہ قاب قوسین اوادنی فاوحٰی الیہ فیما اوحی خمسین |
پھر آپ اس سے اوپر گئے جہاں کا صرف اﷲ تعالٰی کو ہی علم ہے حتی کہ آپ سدرۃ المنتہٰی پر آئے اور رب العزت کا قرب پایا پھر اور قرب پایا حتی کہ دو کمانوں کے فاصلہ پر ہوئے یا اس سے بھی زیادہ قرب پایا،تو اﷲ تعالٰی نے ان کی طرف وحی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع