30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
للناس،والحرم الذی جعلہ امنا ومثلہ روح اﷲ علی سبیل التفضیل لہ علی سائر الارواح،وانما ذٰلك فی ترتیب الکلام کقولہ جل وعلا(ای حکایۃ عن فرعون) ان رسولکم الذی ارسل الیکم لمجنون فاضاف الرسول الیہم وانما ھو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ارسل الیھم اھ باختصار[1]۔ |
اﷲ تعالٰی نے لوگوں کے لیے مرجع بنایا اوروہ حرم جس کو اﷲ تعالٰی نے لوگوں کے لیے جائے امن بنایا،اس طرح روح اﷲ کہا گیا کہ جس کا مطلب ہے کہ اﷲ تعالٰی نے اس کو باقی روحوں پر فضیلت دی اور یہ صرف کلامی ترتیب ہے جیسے اﷲ تعالٰی کا ارشاد فرعون سے حکایت کرتے ہوئے ہے کہ اس نے کہا:بنی اسرائیل!تمہارا رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا وہ مجنون ہے، تو یہاں رسول کی اضافت بنی اسرائیل کی طرف کی حالانکہ وہ صرف اﷲ کے رسول ہیں،صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، جس کو اﷲ تعالٰی نے ان کی طرف بھیجا ہے،ا ھ اختصارًا(ت) |
ضرب ۱۰۵:کہ حدیث اول سے بھی جواب آخر ہے یہ دونوں حدیثیں بھی فرض کرلیں اور مکان اُسی تیرے گمان ہی کے معنی پر رکھیں اور اس کی نسبت جانب حضرت عزت بھی تیرے ہی حسب دلخواہ قرار دیں تو غایت یہ کہ دو حدیث آحاد میں لفظ مکان وارد ہوا اس قدر کیا قابل استناد ولائق اعتماد کہ ایسے مسائلِ ذات و صفاتِ الٰہی میں احادیث اصلًا قابل قبول نہیں وہی تیرے دشمن مستند،امام بیہقی اُسی کتاب الاسماء والصفات میں فرماتے ہیں:
|
ترك اھل النظر اصحابنا الاحتجاج باخبار الآحاد فی صفات اﷲ تعالٰی اذا لم یکن لما انفرد منہا اصل فی الکتاب او الاجماع واشتغلوا بتاویلہ[2]۔ |
ہمارے ائمہ متکلمین اہلسنت و جماعت نے مسائل صفاتِ الہیہ میں اخبار آحاد سے سند لانی قبول نہ کی جب کہ وہ بات کہ تنہا ان میں آئی اس کی اصل قرآن عظیم یا باجماع امت سے ثابت نہ ہوا اور ایسی حدیثوں کی تاویل میں مشغول ہوئے۔ |
اُسی میں امام خطابی سے نقل فرمایا:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع