30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
و مرتبہ ایسے شائع الاستعمال نہیں کہ کسی ادنٰی ذی علم پر مخفی رہیں مگر جاہل بےخرد کا کیا علاج۔
ضرب ۱۰۳:اقول:ممکن کہ مکان مصدر میمی ہو تو اس کا حاصل کون ووجود و ارتفاع و اعتلائے وجود الہٰی ہوگا۔
ضرب ۱۰۴:اضافت تشریفی بھی کبھی کسی ذی علم سے سُنی ہے،کعبہ کو فرمایا:بیتی میرا گھر جبریل امین کو فرمایا:روحنا ہماری رُوح،ناقہ صالح کو فرمایا:ناقۃ اﷲ اﷲ کی اونٹنی اب کہہ دینا کہ اﷲ کا بڑا شیش محل تو اوپر ہے اور ایك چھوٹی سی کوٹھری رات کو سونے کی مکے میں بنا رکھی ہے اور تیرا معبود کوئی جاندار بھی ہے اونچی سی اونٹنی پر سوار بھی ہے۔
بیحیا باش وانچہ خواہی گوئے
(بے حیاہوجا اور جو چاہے کہہ ت)
وہی تیری جان کے دشمن امام بیہقی جن کی کتاب الاسماء کا نام تو نے ہمیشہ کے لیے اپنی جان کو آفت لگادینے کے واسطے لے دیا اُسی کتاب الاسماء میں بعد عبارت مذکورہ سابق فرماتے ہیں:
|
قال ابوسلیمٰن وھٰھنا لفظۃ اخری فی قصۃ الشفاعۃ رواھا قتادۃ عن انس رضی اﷲ تعالٰی عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فیأ تونی یعنی اھل المحشریسأ لونی للشفاعۃ فاستأذن علی ربی فی دارہ فیؤذن لی علیہ ای فی دارہ التی دوّرھا لاولیائہ وھی الجنۃ کقولہ عزوجل لھم دارالسلام عند ربھم وکقولہ تعالٰی واﷲ یدعوالٰی دارالسلمٰ وکما یقال بیت اﷲ و حرم اﷲ،یریدون البیت الذی جعل اﷲ مثابۃ |
ابوسلیمان نے فرمایا کہ یہاں شفاعت کے واقعہ میں ایك دوسرا لفظ ہے جس کو حضرت قتادہ نے انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ اور انہوں نے نبی پاك صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا:تو میرے پاس اہلِ محشر آئیں گے شفاعت کی درخواست کریں گے،تو میں اﷲ تعالٰی سے اجازت طلب کروں گا اس کے گھر میں تو مجھے اجازتِ شفاعت ہوگی،فی دارہ سے مراد وہ دار ہے جس کو اﷲ تعالٰی نے اپنے اولیاء کے لیے دار بنایا اور وہ جنت ہے،جیسے اﷲ تعالٰی کا ارشاد ہے اور اﷲ تعالٰی دارالسلام کی طرف دعوت دیتا ہے۔(جنت کو اﷲ تعالٰی کا دار کہنا)ایسے ہی ہے جیسے بیت اﷲ اور حرم اﷲ کہا جاتا ہے اور یہ مراد لیتے ہیں کہ وہ بیت جس کو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع