30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ثم ان ھذہ القصۃ بطولہا انما ھی حکایۃ حکاھا شریك عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ من تلقاء نفسہ، لم یعزھا الٰی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ولارواھا عنہ ولا اضافہا الی قولہ وقد خالفہ فیما تفرد بہ منہا عبد اﷲ بن مسعود و عائشۃ و ابو ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہم و ھم احفظ واکبر واکثر[1]۔ |
یعنی پھر یہ قصہ حدیث مرفوع نہیں شریك نے صرف حضرت انس کا اپنا قول روایت کیا ہے جسے نہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف نسبت کیا نہ حضور کا قول روایت کیا اور ان الفاظ میں ان کی مخالفت فرمائی حضرت عبداﷲ بن مسعود وحضرت ام المومنین صدیقہ و حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم نے، اور وہ حفظ میں زائد،عمر میں زائد،عدد میں زائد۔ |
ضرب ۹۸:پھر امام ابوسلیمٰن خطابی سے نقل فرمایا:
|
وفی الحدیث لفظۃ اخری تفرد بہا شریك ایضا لم یذکرھا غیرہ وھی قولہ فقال وھو مکانہ والمکان لایضاف الی اﷲ تعالٰی سبحٰنہ انما ھو مکان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم و مقامہ الاول الذی اقیم فیہ۔[2] |
یعنی یہ لفظ مکان بھی صرف شریك نے ذکر کیا اوروں کی روایت میں اس کا پتہ نہیں اور مکان اﷲ سبحٰنہ کی طرف منسوب نہیں،اس سے مراد تو نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا مکان اور حضور کا وہ مقام ہے جہاں اس نزول سے پہلے قائم کیے گئے تھے۔ |
کیوں کچے تو نہ ہوئے ہو گے،مگر توبہ وہابی گمراہ کو حیا کہاں۔
ضرب ۹۹:اقول:مسند امام احمد رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی حدیث مسند سیدنا ابی سعید خدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ میں ایك بار اس سند سے مروی۔
حدثنا ابوسلمۃ انا لیث عن یزید بن الہاد عن عمرو بن ابی سعید الخدری[3]۔دوبارہ یوں:
[1] کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب ماجاء فی قول اﷲ تعالٰی ثم دنا فتدلٰی الخ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/۱۸۷
[2] کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب ماجاء فی قول اﷲ تعالٰی ثم دنا فتدلٰی الخ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/۱۸۷
[3] مسند احمد بن حنبل مروی ازابوسعید الخدری دارالفکر بیروت ۳/ ۲۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع