30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو اقرب کو چھوڑ کر بلا دلیل کیونکر گھڑ لیا جائے کہ یہ حال حضور سے نہیں اﷲ عزوجل سے ہے جو اس جملے میں مذکور بھی نہیں مگر یہ ہے کہ۔
|
" وَ مَنۡ لَّمْ یَجْعَلِ اللہُ لَہٗ نُوۡرًا فَمَا لَہٗ مِنۡ نُّوۡرٍ ﴿۴۰﴾"[1]۔ |
جس کے لیے اﷲ تعالٰی نُور نہ بنائے تو اس کے لیے نور نہیں۔ (ت) |
ضرب ۹۶:اپنی مستند کتاب الاسماء والصفات کو دیکھ کر اس حدیث کے باب میں کیا کیا فرماتے ہیں یہ حدیث شریك بن عبداﷲ بن ابی نمر نے(جنہیں امام یحیی بن معین و امام نسائی نے لیس بالقوٰی[2]۔کہا ویسے قوی نہیں،اور تم غیر مقلدوں کے پیشوا ابن حزم نے اسی حدیث کی وجہ سے واہی وضعیف بتایا اور حافظ الشان نے تقریب[3]۔میں صدوق یخطی فرمایا۔)حضرت انس بن مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی جس میں جا بجا ثقات حفاظ کی مخالفت کی اس پر کتاب موصوف میں فرماتے ہیں:
|
وروی حدیث المعراج ابن شہاب الزھری عن انس بن مالك عن ابی ذر وقتادۃ عن انس بن مالك عن مالك بن صعصعۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ لیس فی حدیث واحد منھما شیئ من ذلک،وقد ذکر شریك بن عبداﷲ بن ابی نمرفی روایتہ ھذا ما یستدل بہ علی انہ لم یحفظ الحدیث کما ینبغی لہ۔[4] |
یعنی یہ حدیث معراج امام ابن شہاب زہری نے حضرت انس بن مالك انہوں نے حضرت ابوذر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے اور قتادہ نے حضرت انس بن مالك انہوں نے حضرت مالك بن صعصعہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کی ان روایات میں اصلًا ان الفاظ کا پتہ نہیں اور بیشك شریك نے روایت میں وہ باتیں ذکر کی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ حدیث جیسی چاہیے انہیں یاد نہ تھی۔ |
ضرب ۹۷:وجوہ مخالفت بیان کرکے فرمایا:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع