30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسلمان سر کی طرف ہاتھ اٹھاتے جہاں وہ سروں کے مقابل ہے باقی اطراف کے مسلمان سروں کی طرف کیونکر اٹھاتے بلکہ سمت مقابل کے رہنے والوں پر لازم ہوتا کہ اپنے پاؤں کی طرف ہاتھ بڑھائیں کہ ان مجمسہ کا معبود اُن کے پاؤوں کی طرف ہے۔بالجملہ پہلی شق باطل ہے،رہی دوسری اس پر یہ احاطہ عرش کے اندر اندر ہر گز نہ ہوگا ورنہ استواء باطل ہوجائے گا،ان کا معبود عرش کے اوپر نہ ہوگا نیچے قرار پائے گا،لاجرم عرش کے باہر سے احاطہ کرے گا اب عرش ان کے معبود کے پیٹ میں ہوگا تو عرش اس کا مکان کیونکر ہوسکتا ہے بلکہ وہ عرش کا مکان ٹھہرا اور اب عرش پر بیٹھنا بھی باطل ہوگیا،کہ جو چیز اپنے اندر ہو اس پر بیٹھنا نہیں کہہ سکتے کیا تمہیں کہیں گے کہ تم اپنے دل یا جگر یا طحال پر بیٹھے ہوئے ہو،گمرا ہو،حجۃ اﷲ یوں قائم ہوتی ہے۔
ضرب ۹۳:اقول:شرع مطہر نے تمام جہان کے مسلمانوں کو نماز میں قبلہ کی طرف منہ کرنے کا حکم فرمایا،یہی حکم دلیل قطعی ہے کہ اﷲ عزوجل جہت و مکان سے پاك و بری ہے،اگر خود حضرت عزت جلالہ کے لیے طرف وجہت ہوتی محض مہمل باطل تھا کہ اصل معبود کی طرف منہ کرکے اس کی خدمت میں کھڑا ہونا اس کی عظمت کے حضور پیٹھ جھکانا اس کے سامنے خاك پر منہ ملنا چھوڑ کر ایك اور مکان کی طرف سجدہ کرنے لگیں حالانکہ معبود دوسرے مکان میں ہے،بادشاہ کا مجرئی اگر بادشاہ کو چھوڑ کر دیوان خانہ کی کسی دیوار کی طرف منہ کرکے آداب مجرا بجالائے اور دیوار ہی کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا رہے تو بے ادب مسخرہ کہلائے گا یا مجنون پاگل۔ہاں اگر معبود سب طرف سے زمین کو گھیرے ہوتا تو البتہ جہت قبلہ مقرر کرنے کی جہت نکل سکتی کہ جب وہ ہر سمت سے محیط ہے تو اس کی طرف منہ تو ہر حال میں ہوگا ہی،ایك ادب قاعدے کے طور پر ایك سمت خاص بنادی گئی،مگر معبود ایسے گھیرے سے پاك ہے کہ یہ صورت دو ہی طور پر متصور ہے،ایك یہ کہ عرش تا فرش سب جگہیں اس سے بھری ہوں جیسے ہر خلا میں ہوا بھری ہے۔دوسرے یہ کہ وہ عرش سے باہر باہر افلاك کی طرح محیط عالم ہو اور بیچ میں خلا جس میں عرش و کرسی،آسمان و زمین و مخلوقات واقع ہیں،اور دونوں صورتیں محال ہیں،پچھلی اس لیے کہ اب وہ صمد نہ رہے گا صمد وہ جس کے لیے جوف نہ ہو،اور اس کا جوف تو اتنا بڑا ہوا معہذا جب خالق عالم آسمان کی شکل پر ہوا تو تمہیں کیا معلوم ہوا کہ وہ یہی آسمان اعلٰی ہو جسے فلك اطلس و فلك الافلاك کہتے ہیں،جب تشبیہ ٹھہری تو اس کے استحالے پر کیا دلیل ہوسکتی ہے اور پہلی صورت اس سے بھی شنیع تروبد یہی البطلان ہے کہ جب مجسمہ گمراہوں کا وہمی معبود عرش تا فرش ہر مکان کو بھرے ہوئے ہے تو معاذ اﷲ ہر پاخانے غسل خانے میں ہوگا مردوں کے پیٹ اور عورتوں کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع