30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ضرب ۸۶:اقول:جو مکانی ہے اور جزء لایتجزے کے برابر نہیں اسے مقدار سے مفر نہیں اور مقدار غیر متناہی بالفعل باطل ہے اور مقدار متناہی کے افراد نامتناہی ہیں اور شخص معین کو اُن میں سے کوئی قدر معین ہی عارض ہوگی،تو لاجرم تیرا معبود ایك مقدار مخصوص محدود پر ہوا اس تخصیص کو علت سے چارہ نہیں مثلًا کروڑ گز کا ہے تو دو کروڑ کا کیوں نہ ہوا،دو کروڑ کا ہے تو کروڑ کا کیوں نہ ہوا،اس تخصیص کی علت تیرا معبود آپ ہی ہے یا اس کا غیر اگر غیر ہے جب تو سچا خداوہی ہے جس نے تیرے معبود کو اتنے یا اتنے گز کا بنایا،اور اگر خود ہی ہو تا ہم بہرحال اس کا حادث ہونا لازم کہ امورِ متساویۃ النسبۃ میں ایك کی ترجیح ارادے پر موقوف،اور ہر مخلوق بالا رادہ حادث ہے تو وہ مقدار مخصوص حادث ہوئی اور مقداری کا وجود بے مقدار کے محال،تو تیرا معبود حادث ہوا اور تقدم الشیئ علی نفسہ کا لزوم علاوہ۔
ضرب ۸۷:اقول:ہر مقدار متناہی قابل زیادت ہے تو تیرے معبود سے بڑا اور اس کے بڑے سے بڑا ممکن۔
ضرب ۸۸:اقول:جہات فوق و تحت دو مفہوم اضافی ہیں ایك کا وجود بے د وسرے کے محال ہر بچہ جانتا ہے کہ کسی چیز کو اوپر نہیں کہہ سکتے جب تك دوسری چیز نیچی نہ ہو،اور ازل میں اﷲ عزوجل کے سوا کچھ نہ تھا۔صحیح بخاری شریف میں عمران بن حصین رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
کان اﷲ تعالٰی ولم یکن شیئ غیرہ [1]۔ |
اﷲ تعالٰی تھا اور اس کے سوا کچھ نہ تھا۔ |
تو ازل میں اﷲ عزوجل کا فوق یا تحت ہونا محال اور جب ازل میں محال تھا تو ہمیشہ محال رہے گا ورنہ اﷲ عزوجل کے ساتھ حوادث کا قیام لازم آئے گا اور یہ محال ہے،کتاب الاسماء والصفات میں امام ابوعبداﷲ حلیمی سے ہے:
|
اذاقیل ﷲ العزیز فانما یراد بہ الاعتراف لہ بالقدم الذی لا یتھیأ معہ تغیرہ عمالم یزل علیہ من القدرۃ والقوۃ و |
جب اﷲ تعالٰی کو عزیز کہا جائے تو اس سے اس کے قدم کا اعتراف ہے کہ جس کی بناء پر ازل سے اس کی قدرت و طاقت پر کوئی تغیر نہیں ہوا،اور اﷲ تعالٰی کی پاکیزگی کی طرف راجع ہے ان چیزوں سے جو |
[1] صحیح البخاری کتاب بدءِ الخلق باب ماجاء فی قول اﷲ تعالٰی وھو الذی یبدؤ الخلق الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۵۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع