30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مکان میں موجود ہونا محال اور یہ اس سے بھی شنیع تر ہے کہ عرش تا فرش تمام مکانات بالا و زیریں دفعۃً اس سے بھرے ہوئے مانوکہ تجزیہ وغیرہ صدہا استحالے لازم آنے کے علاوہ معاذ اﷲ اﷲ تعالٰی کو اسفل وادنی کہنا بھی صحیح ہوگا لاجرم قطعًا یقینًا ایمان لانا پڑے گا کہ عرش وفرش کچھ اس کا مکان نہیں،نہ وہ عرش میں ہے نہ ماتحت الثرٰی میں،نہ کسی جگہ میں ہاں اس کا علم و قدرت و سمع و بصرو ملك ہر جگہ ہے۔جس طرح امام ترمذی نے جامع میں ذکر فرمایا:
|
واستدل بعض اصحابنا فی نفی المکان عنہ تعالٰی بقول النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انت الظاھر فلیس فوقك شیئ وانت الباطن فلیس دونك شیئ واذا لم یکن فوقہ شیئ ولادونہ شیئ لم یکن فی مکان[1]۔ |
یعنی اور بعض ائمہ اہلسنت نے اﷲ عزوجل سے نفی مکان پر نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے اس قول سے استدلال کیا کہ اپنے رب عزوجل سے عرض کرتے ہیں تو ہی ظاہر ہے توکوئی تجھ سے اوپر نہیں،اور تو ہی باطن ہے تو کوئی تیرے نیچے نہیں،جب اﷲ عزوجل سے نہ کوئی اوپر ہوا نہ کوئی نیچے تو اﷲ تعالٰی کسی مکان میں نہ ہوا۔ |
یہ حدیث صحیح مسلم شریف و سنن ابی داؤد میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ورواہ البیھقی فی الاسم الاول و الاخر (اسے بیہقی نے اسم اول و آخر میں ذکر کیا ہے۔ت)
اقول:حاصل دلیل یہ کہ اﷲ عزوجل کا تمام امکنہ زیر و بالا کو بھرے ہونا تو بداہۃً محال ہے ورنہ وہی استحالے لازم آئیں،اب اگر مکان بالا میں ہوگا تو اشیاء اس کے نیچے ہوں گی اور مکان زیریں میں ہوا تو اشیاء اُس سے اوپر ہوں گی اور وسط میں ہوا تو اوپر نیچے دونوں ہوں گی حالانکہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی وسلم فرماتے ہیں،نہ اس سے اوپر کچھ ہے نہ نیچے کچھ،تو واجب ہوا کہ مولٰی تعالٰی مکان سے پاك ہو۔
ضرب ۷۷:عرش فرش جگہ کو معاذ اﷲ مکانِ الٰہی کہو اﷲ تعالٰی ازل سے اس میں متمکن تھا یا اب متمکن ہوا،پہلی تقدیر پر وہ مکان بھی ازلی ٹھہرا اور کسی مخلوق کو ازلی ماننا باجماع مسلمین
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع