30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ضرب ۷۱:امام بیہقی کتاب الاسماء والصفات میں امام اجل ابوعبداﷲ حلیمی سے زیر اسم پاك متعالٰی نقل فرماتے ہیں:
|
معناہ المرتفع عن ان یجوز علیہ مایجوز علی المحدثین من الازواج والاولادو الجوارح والاعضاء و اتخاذ السریرللجلوس علیہ،والا حتجاب بالستور عن ان تنفذ الابصار الیہ،و الانتفال من مکان الٰی مکان،ونحو ذلك فان اثبات بعض ھذہ الاشیاء یوجب النہایۃ وبعضہا یوجب الحاجۃ،وبعضہا یوجب التغیر والاستحالۃ،و شیئ من ذٰلك غیر لا ئق بالقدیم ولا جائز علیہ۔[1] |
یعنی نام الٰہی متعالٰی کے یہ معنی ہیں کہ اﷲ عزوجل اس سے پاك و منزہ ہے کہ جو باتیں مخلوقات پر روا ہیں جیسے جورو،بیٹا،آلات،اعضاء،تخت پر بیٹھنا،پردوں میں چھپنا،ایك مکان سے دوسرے کی طرف انتقال کرنا(جس طرح چڑھنے،اُترنے،چلنے،ٹھہرنے میں ہوتا ہے)اس پر روا ہوسکیں اس لیے کہ ان میں بعض باتوں سے نہایت لازم آئے گی بعض سے احتیاج بعض سے بدلنا متغیر ہونا اور ان میں سے کوئی امر اﷲ عزوجل کے لائق نہیں،نہ اس کے لیے امکان رکھے۔ |
کیوں پچتا ئے تو نہ ہوگے کتاب الاسماء کا حوالہ دے کر،تف ہزار تُف وہابیہ مجسمہ کی بے حیائی پر۔
ضرب ۷۲:باب ماجاء فی العرش میں امام سلیمٰن خطابی علیہ الرحمۃ سے نقل فرماتے ہیں:
|
لیس معنی قول المسلمین ان اﷲ تعالٰی استوٰی علی العرش ھوانہ مماس لہ او متمکن فیہ،اومتحیز فی جہۃ من جہاتہ،لکنہ بائن من جمیع خلقہ،وانما ھو خبرجاء بہ التوقیف فقلنا بہ،ونفینا عنہ التکیف اذ لیس کمثلہ شیئ وھو |
مسلمانوں کے اس قول کے کہ اﷲ تعالٰی عرش پر ہے،یہ معنی نہیں کہ وہ عرش سے لگایا ہوا ہے یا وہ ا س کا مکان ہے یا وہ اس کی کسی جانب میں ٹھہرا ہوا ہے بلکہ وہ تو اپنی تمام مخلوق سے نرالا ہے یہ تو ایك خبر ہے کہ شرع میں وارد ہوئی تو ہم نے مانی اور چگونگی اس سے دور و مسلوب جانی اس لیے کہ اﷲ کے مشابہ کوئی |
[1] کتاب الاسماء والصفات للبیہقی جماع ابواب ذکر الاسماء التی تتبع نفی التشبیہ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل ۲/۷۱ و۷۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع