30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ضرب ۴۲:پھر امام اہلسنت سے نقل فرمایا:
|
وقد قال بعض اصحابنا ان الاستواء صفۃ اﷲ تعالٰی ینفی الاعوجاج عنہ[1]۔ |
یعنی بعض ائمہ اہلسنت نے فرمایا کہ صفت استواء کے معنی ہیں کہ اﷲ عزوجل کجی سے پاك ہے۔ |
اقول:(میں کہتا ہوں،ت)اس تقدیر پر استواء صفات سلبیہ سے ہوگا جیسے غنی یعنی کسی کامحتاج نہیں،یونہی مستوی یعنی اس میں کجی اور اعوجاج نہیں،اور اب علٰی ظرفِ مستقر ہوگا اور اسی علوملك وسلطان کا مفید،اور ثم تراخی فی الذکر کے لیے، (ت) کقولہ تعالٰی: " ثُمَّ کَانَ مِنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا"[2] (پھر ایمان والوں میں ہوا۔ت)وقولہ تعالٰی خَلَقَہٗ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ﴿۵۹﴾""[3] (اس کو مٹی سے پیدا کیا پھر اس کو فرمایا ہوجا،تو وہ ہوگیا۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
ضرب ۴۳:پھر امام استاذ ابومنصور ابن ابی ایوب سے نقل فرمایا کہ انہوں نے مجھے لکھ بھیجا:
|
یعنی بہت متاخرین علمائے اہل سنت اس طرف گئے کہ استواء بمعنی قہر و غلبہ ہے،آیت کے معنی یہ ہیں کہ رحمن عزجلالہ عرش پر غالب اور اس کا قاہر ہے،اور اس ارشاد کا فائدہ یہ خبر دینا ہے کہ مولٰی تعالٰی اپنی تمام مملوکات پر قابو رکھتا ہے مملوکات کا اس پر قابو نہیں اور عرش کا خاص ذکر اس لیے فرمایا کہ وہ جسامت میں سب مملوکات سے بڑا ہے،تو اس کے ذکر سے باقی سب پر تنبیہ فرمادی اور استواء بمعنی قہر و غلبہ زبانِ عرب میں شائع ہے۔پھر نژو نظم سے اس کی نظریں پیش کیں کہ |
ان کثیرا من متاخری اصحابنا ذھبوا الٰی ان الاستواء ھوالقھروالغلبۃ،و معناہ ان الرحمٰن غلب العرش و قھرہ،وفائدتہ الاخبار عن قھرہ مملوکاتہ،وانہا لم تقھرہ وانما خص العرش بالذکر لا نہ اعظم المملوکات فنبہ بالاعلی علی الادنی،قال والاستواء بعمنی القھر و الغلبۃ شائع فی اللغۃ کما یقال استوٰی فلان علی الناحیۃ اذا غلب اھلہا وقال الشاعر فی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع