30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ضرب ۳۹:ابوالحسن علی بن محمد طبری وغیرہ ائمہ متکلمین سے نقل فرمایا:
|
القدیم سبٰحنہ عال علی عرشہ لا قاعد ولاقائم ولا مماس و لامبائن عن العرش،یریدبہ مباینۃ الذات التی ھی بمعنی الاعتزال اوالتباعد لان المماسۃ و المباینۃ التی ھی ضدھا والقیام والقعود من اوصاف الاجسام،واﷲ عزوجل احد صمد لم یلد ولم یولد و لم یکن لہ کفوا احد،فلایجوز علیہ مایجوز علی الاجسام تبارك وتعالٰی۔[1] |
مولٰی تعالیٰ عرش پر علو رکھتا ہے مگر نہ اُس پر بیٹھا ہے نہ کھڑا، نہ اس سے لگا ہوا نہ اس معنٰی پر جُدا کہ اس سے ایك کنارے پر ہو یا دور ہو کہ لگایا الگ ہونا اور اٹھنا بیٹھنا تو جسم کی صفتیں ہیں اور اﷲ تعالٰی احد صمد ہے،نہ جنا نہ جنا گیا،نہ اس کے جوڑ کا کوئی، تو جو باتیں اجسام پر روا ہیں اﷲ عزوجل پر روا نہیں ہوسکتیں۔ |
ضرب ۴۰:امام استاذ ابوبکر بن فورك سے نقل فرمایا کہ انہوں نے بعض ائمہ اہلنست سے حکایت کی:
|
استوٰی بمعنی علا ولا یرید بذلك علوا بالمسافۃ و التحیز والکون فی مکان متمکنافیہ ولکن یرید معنی قول اﷲ عزوجل ء امنتم من فی السماء ای من فوقہا علٰی معنی نفی الحد عنہ وانہ لیس ممایحویہ طبق او یحیط بہ قطر۔[2] |
یعنی استواء بمعنی علو ہے اور اس سے مسافت کی بُلندی یا مکان میں ہونا مراد نہیں بلکہ یہ کہ وہ حدو نہایت سے پاك ہے، عرش و فرش کا کوئی طبقہ اُسے محیط نہیں ہوسکتا نہ کوئی مکان اسے گھیرے،اسی معنی پر قرآن عظیم میں اُسے آسمان کے اوپر فرمایا،یعنی اس سے بلند و بالا ہے کہ آسمان میں سماسکے۔ |
امام بیہقی فرماتے ہیں:
|
قلت وھو علی ھذہ الطریقۃ من |
حاصل یہ کہ اس طریقہ پر استواء صفات ذات |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع