30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہیں نہیں۔
ثالثًا: مُنہ بھر کر اُس سبّوح قدوس کو گالی دی کہ اس کے لیے مکان ثابت ہے،عرش اس کا مکان ہے،اور اس کے ثبوت میں بزورِ زبان دو حدیثیں نقل کردیں۔
رابعًا: یہ تین دعوے تو منطوق عبارت تھے مفہوم استثناء سے بتایا کہ استواء علی العرش کے معنی اﷲ تعالٰی کا عرش پر بیٹھنا، چڑھنا،ٹھہرنا مطابق سنت ہیں۔
خامسًا:اپنے معبود کو بٹھانے،چڑھانے،ٹھہرانے ہی پر قناعت نہ کی بلکہ ان لفظوں کے مفہوم سے کہ جن صفات سے کلامِ شارع ساکت ہے ان میں سکوت لازم ہے تمام متشابہات استواء کی طرح انہیں معانی پر محمول کرلیں جو اُن کے ظاہر سے مفہوم ہوتے ہیں۔
سادسًا: باوصف ان کے اصل دعوٰی یہ ہے کہ خدا عرش کے سوا کہیں نہیں۔
ہم بھی ان چھ باتوں کو بعونہ تعالٰی ا سی ترتیب پر چھ تپانچوں سے خبر لیں اور ساتویں تپانچے میں دو مسئلہ باقیہ کے متعلق اجمالی گوشمالی کریں وباﷲ التوفیق۔
پہلا تپانچہ
گمراہ نے ادعا کیا کہ اﷲ تعالٰی کے بیٹھنے،چڑھنے،ٹھہرنے کے سوا جو کوئی اور معنی استواء کے کہے بدعتی ہے،اور اس پر اُن نو۹ کتابوں کا حوالہ دیا۔
ضرب اوّل:فقیر نے اگر یہ التزام نہ کیا ہوتا کہ اُس کی گنائی ہوئی کتابوں سے سند لاؤں گا تو آپ سیر دیکھتے کہ یہ تپانچہ اس گمراہ کو کیونکر خاك و خون میں لٹاتا مگر اجمالًا اقوال مذکورہ بالا ہی ملاحظہ ہوجائیں کہ اس گمراہ نے کس کس امامِ دین و سنت کو بدعتی بنا دیا،۱امام ابوالحسن علی ابن بطالی،۲امام ابن حجر عسقلانی،۳امام ابوطاہر قزوینی،۴امام عارف شعرانی،۵امام جلال الدین سیوطی، ۶امام اسمعیل ضریر ۷حتی کہ خود امام اہلسنت سیدنا امام ابوالحسن اشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین،تو کم از کم اس ضرب کو سات۷ ضرب سمجھئے بلکہ تیرہ۱۳ کہ امام نسفی وامام بیہقی وامام بغوی و امام علی بن محمد ابوالحسن طبری و امام ابوبکر بن فورك وامام ابو منصور بن ابی ایوب کے اقوال عنقریب آتے ہیں۔یہ حضرات بھی اس بدعتی کے طور پر معاذ اﷲ بدعتی ہوئے،اور بیس۲۰ ضرب اوپر گزریں جملہ تینتس۳۳ ہوئیں،آگے چلیے اور اب صرف اس کے مستندوں سے اس کی خبر لیجئے۔
ضرب ۳۴:مدارك شریف سورہ سجدہ میں استواء علی العرش کا حاصل اس کا احداث اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع