30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مؤلفہ شاہ عبدالقادر صاحب دہلوی و ترجمہ لفظی شاہ رفیع الدین صاحبِ دہلوی و کتاب الاسماء و الصفات بیہقی و کتاب العلوامام ذہبی و تفسیر ابن کثیر و معالم التنزیل و جامع البیان و مدارك وغیرہا اور محیط ہونا باری تعالٰی کا ہر چیز پر فقط ازروئے علم ہے۔قال تعالٰی: " اَحَاطَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عِلْمًا﴿۱۲﴾٪"[1]۔ (اﷲ تعالٰی نے اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کیا)احادیثِ صریحہ صحیحہ سے عرش کا مکانِ الٰہی ہونا ثابت ہے،چنانچہ بخاری کی معراج کی حدیث میں فرمایا:وھو فی مکانہ[2] (اور وہ اپنے مکان میں ہے۔ت)اورمشکوۃ کے باب الاستغفار و التوبہ میں مسند احمد کی حدیث میں وارد ہے کہ:
|
وعزتی و جلالی وارتفاع مکانی الخ[3]۔ |
میری عزت،میرے جلال اور میرے بلند مکان کی قسم الخ (ت) |
ہاں جن صفات سے کلامِ شارع ساکت ہے اُن میں سکوت لازم ہے بعض اشخاص بریلی نے جو علمِ منقول وعقائد اہلِ حق سے بے بہرہ ہیں اس عقیدہ صحیحہ کے معتقد کو بزورگمراہی گمراہ بنایا " وَ مَا لَہُمۡ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ ؕ"[4]۔ (ان کو اس کا علم نہیں۔ت)ایسے شخص سے اہلِ اسلام کو بچنا چاہیے۔
ضرب قہاری
(۱۸ ۱۳ھ)
مسلمانو! دیکھو اس گمراہ نے ان چند سطور میں کیسی کیسی جہالتیں ضلالتیں تناقض سفاہتیں اﷲ و رسول پر افتراء علما وکتب پر تہمتیں بھردی ہیں۔
اولًا: ادعا کیا کہ استواء علی العرش میں بیٹھنے،چڑھنے،ٹھہرنے کے سوا جو کوئی اور معنی کہے بدعتی ہے اور اسی کی سند میں بکمال جرات و بے حیائی ان نو کتابوں کے نام گن دیئے۔
ثانیًا: زعم کیا کہ احاطہ الٰہی صرف ازرُوئے علم ہے حالانکہ اس مسئلہ کا یہاں کچھ ذکر نہ تھا مگر اس نے اس بیان سے اپنی وہ گمراہی پالنی چاہی ہے۔کہ اﷲ تعالٰی عرش پر ہے اور عرش کے سوا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع